ذوق عبادت اور آداب دُعا — Page 308
308 ذریعہ بنے اور ومتاع إلى جنین اور کچھ عرصہ کے لئے تمہیں اس سے فائدہ پہنچے۔جس سے معلوم ہوتا ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم کو اللہ تعالیٰ نے اس بات سے مطلع فرما دیا تھا کہ اگرچہ خدا تعالیٰ کے صالح عبادت گزار بندے بہر حال اس سرزمین کے وارث بنائے جائیں گے مگر وقتی طور پر اس پر غیروں کا قبضہ ہو گا کیونکہ یہ آیت بہر حال مسلمانوں سے متعلق آنحضرت صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم کا بیان شمار نہیں ہو سکتی۔کیونکہ وہ وعدہ کہ خدا کے پاک بندوں کو اور عبادت گزار بندوں کو زمین دی جائے گی ایک مستقل وعدہ ہے اور جس قوم کو مخاطب کر کے آنحضور صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم یہ فرما رہے ہیں کہ قران آذري لَعَلَّهُ فِتْنَةٌ نَّكُمْ اس سے کوئی مخالف گروہ مراد ہے مسلمان مراد نہیں کہ میں نہیں کہہ سکتا کہ تمہارے لئے یہ کیا آزمائش لے کر آئے گی یعنی یہ زمین جس پر تم قابض ہو گے تمہارے لئے کیا آزمائش کا موجب بنے گی۔ومتاعوانی چنین ہاں کچھ مدت کے لئے تمہیں ضرور اس سے فائدہ پہنچ سکتا ہے۔اس کے معا بعد یہ دعا ہے قُل رَبِّ احْكُم بالحق اے میرے رب ! حق سے فیصلہ فرما دے۔مجھے یاد ہے جب سے خلیج (GULF) کا تنازعہ چل رہا تھا تو اس وقت بھی میں نے بہت سوچ کر یہی دعا کرنے کی احباب جماعت کو تلقین کی تھی کہ کسی ایک طرف کی بجائے حق کے جیتنے کی دعا کریں کہ اللہ تعالی حق کو فتح عطا فرمائے۔پس چونکہ حضرت اقدس محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وعلیٰ آلہ وسلم کی دعا کے ساتھ یہ دعا منطبق ہو جاتی ہے اور بعینہ اسی مضمون کی دعا ہے اس لئے میں سمجھتا ہوں کہ اس دور کے ساتھ اس دعا کا خاص تعلق ہے اور یہ فیصلے ابھی ہونے باقی ہیں، کسی ایک فریق کے جیتنے یا نہ جیتنے کی بحث نہیں ہے بلکہ اس تنازعہ کے نتیجے میں جو کچھ بھی آگے جدوجہد کا ایک سلسلہ جاری ہونے والا ہے، جو حالات بھی پیدا ہوں گے بالآخر ہماری دعا یہی ہے کہ اے خدا ! حق کے ساتھ فیصلہ فرما دے اور جن لوگوں کے مقدر میں یہ سرزمین لکھی گئی ہے بالآخران تک یہ پہنچے۔چنانچہ اس کے بعد آنحضور صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم اپنے رب سے عرض کرتے ہیں۔وَرَبُّنَا الرَّحْمنُ الْمُسْتَعَانُ کہ ہمارا رب بہت ہی رحمت