ذوق عبادت اور آداب دُعا — Page 307
307 بيت الفضل - لندن دار مئی 1991ء بسم الله الرّحمنِ الرَّحِيمِ حق کے ساتھ فیصلہ فرمانے کی دعا تشہد و تعوذ اور سورۂ فاتحہ کی تلاوت کے بعد حضور انور نے فرمایا :- ان دعاؤں کا ذکر چل رہا ہے جو خد تعالی کی طرف سے انعام یافتہ بندوں نے کیں اور جن کا ذکر بطور خاص قرآن کریم میں محفوظ فرمایا گیا۔ایک دعا سورۂ انبیاء کی آیت میں حضرت اقدس محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ و علیٰ آلہ وسلم کی دعا کے طور پر محفوظ -4 قل رَبِّ احْكُمْ بِالْحَقِّ ، وَرَبُّنَا الرَّحْمَنُ الْمُسْتَعَانُ عَلَى مَا تَصِفُونَ کہ اس نے کہا یعنی محمد رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم) نے کہا : : قل رب احكم بالحق کہ اے میرے رب ! حق کے ساتھ فیصلہ فرما دے وَرَبُّنَا الرَّحْمنُ المُسْتَعَانُ عَلى مَا تَصِفُونَ اور ہمارا رب بہت ہی رحم کرنے والا بن مانگے دینے والا ہے۔المُشعان اور ان باتوں میں ہمارا مددگار ہے عَلى مَا تَصِفُونَ جو تم ہمارے خلاف بناتے ہو۔اس دعا کا پس منظر اس لحاظ سے بہت دلچسپ ہے کہ اس میں پہلے زیور کی اس پیشگوئی کا ذکر ہے کہ جس میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ الارض یعنی فلسطین کی زمین خدا تعالیٰ کے عبادت گزارہ صالح بندوں کو عطا کی جائے گی۔ان الارض يرفهَا عِبَادِي الصَّلِحُونَ (یہ اس پیشگوئی کے الفاظ ہیں۔اس سے کچھ آیات کے بعد پھر یہ آیت آتی ہے۔وران آذري لَعَلَّهُ فِتْنَةٌ لَّكُمْ وَمَتَاعُ إِلَى جذب یعنی محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم یہ بیان فرما رہے ہیں کہ میں نہیں کہہ سکتا یا میں نہیں جانتا کہ یہ جو وعدہ ہے شاید تمہارے لئے آزمائش کا ایک