ذوق عبادت اور آداب دُعا

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 309 of 528

ذوق عبادت اور آداب دُعا — Page 309

309 کرنے والا بے انتہاء دینے والا بن مانگے دینے والا ہے اور جو کچھ یہ لوگ ہم پر باتیں بتاتے ہیں یا تم لوگ ہم پر باتیں بتاتے ہو ان کے خلاف کہیں ہمارا رب مددگار ہوگا اور مددگار ہے۔پس اس وسیع تر معنی میں یہ دعا کرنی چاہیئے۔شدید مخالفت کے مقابل پر اسی قسم کی نصرت چاہنے کی دعا اس کے بعد دوسری دعا سورۃ المومنون کی آیت ۲۷ میں ہے۔یہ حضرت نوح کی دعا ہے۔اس سے پہلے کی آیات میں یہ ذکر ہے کہ حضرت نوح کی قوم کے سرداروں نے آپ کے متعلق طرح طرح کی باتیں بنائیں اور کہا کہ تم محض اپنی فضیلت چاہتے ہو اور خدا کا پیغام ہم تک پہنچانا محض ایک بہانہ ہے اور پھر یہ کہا کہ اگر خدا چاہتا تو اپنی طرف سے فرشتے نازل فرماتا۔کجا یہ کہ تمہیں ہم پر پیغمبر بنا کر بھجواتا جو محض ایک انسان ہو اس سے تمہیں کوئی حیثیت حاصل نہیں اور پھر یہ بھی کہا کہ انسان ہی نہیں ایک مجنون انسان ہو۔تمہیں تو جنون ہو چکا ہے، دیوانے ہو گئے ہو۔پس ہم اس بد انجام کا انتظار کر رہے ہیں جو تمہیں پہنچے گا۔اس پر حضرت نوح نے یہ دعا کی کہ قَالَ رَتِ انصري بقا كذِّبُوت۔اے میرے رب ! میری نصرت فرما بِمَا كَذَّبُونِ - بمَا كَذَّبُون کا ایک ترجمہ یہ ہے اور یہی ترجمہ حضرت مصلح موعودؓ نے بھی کیا ہے کہ بسبب اس کے جو انہوں نے مجھے جھٹلا دیا اور ایک اور ترجمہ جو اس سیاق و سباق میں بر محل بیٹھتا ہے وہ یہ ہے کہ بمَا كَذِّبُونِ میری جن باتوں میں یہ تکذیب کر رہے ہیں ویسی ہی مقابل کی نصرت عطا فرما یعنی جن جن باتوں میں یہ میری تکذیب کرتے ہیں ایسی نصرت فرما کہ ان سب باتوں میں یہ خود جھوٹے ثابت ہو جائیں۔اس دعا کی قبولیت کا ذکر اگلی آیت میں ملتا ہے اور وہ انہیں معنوں میں ہے جن معنوں میں میں یہ ترجمہ کر رہا ہوں۔فَاوْحَيْنَا الیه آن اضنّمِ الْفُلْكَ بِأَعْيُنِنَا وَوَحْينًا - ہیں اس دعا کے بعد ہم نے نوح پر وحی نازل فرمائی کہ ہماری آنکھوں کے سامنے ہمارے دیکھتے ہیں ایک کشتی بنا اور اس طرح کشتی بنا جس طرح ہم تم پر وحی نازل فرماتے ہیں۔قاد اجاة آمونا اور جب ہمارا حکم آگیا۔وَفَارَ التَّنُّورُ اور چشموں نے خوب جوش مارنا شروع کیا۔فَاسْلُكْ فِيهَا مِن كُل زوجین تو اس وقت ہر