ذوق عبادت اور آداب دُعا — Page 306
306 کی خاطر بدل دیتے ہیں اور محض اپنی ضرورت کے وقت خدا کے حضور حاضر نہیں ہوتے بلکہ ساری زندگی حاضر رہتے ہیں اور اس کی رضا پر بھی راضی رہتے ہیں، اس کے ابتلاء پر بھی راضی رہتے ہیں اور ہمیشہ یہ خوف ان کو دامن گیر ہوتا ہے کہ کہیں خدا ہماری کسی کو تاہی کی وجہ سے ہم سے ناراض نہ ہو اور ہم اس کی رضا سے محروم نہ رہ جائیں۔پس کوتاہی ایسے لوگوں کی دعائیں غیر معمولی طور پر اعجازی رنگ میں قبول کی جاتی ہیں۔اللہ تعالیٰ ہمیں اپنے ایسے بندوں میں شامل فرمائے کہ ہم اس سے بہت کچھ مانگیں اور التجاؤں کے ساتھ مانگیں لیکن اس فیصلے کے ساتھ مانگیں کہ اگر وہ رد کر دے گا تب بھی ہم راضی رہیں گے۔حضرت مصلح موعود کا یہ شعر جو میں پہلے بھی بارہا پڑھ چکا ہوں مجھے بہت ہی پیارا ، آپ کے سب شعروں میں زیادہ پیارا لگتا ہے۔وہ یہ ہے کہ ہو فضل تیرا یا رب یا کوئی ابتلا ہو راضی ہیں ہم اسی میں جس میں تیری رضا ہو۔اے ہمارے اللہ ! چاہتے تو فضل ہیں لیکن فضل ہو یا ابتلاء آجائے ، تیری طرف سے اگر ابتلا آجائے اور رضا والا ابتلا ہو نا راضگی والا ابتلا نہ ہو۔راضی ہیں ہم اسی میں جس میں تیری رضا ہو۔اس روح کے ساتھ آپ دعائیں کیا کریں تو آپ نے سب کچھ پا لیا۔وہی لوگ دنیا میں کامیاب ہوں گے جو مالک کی ہر ادا سے راضی ہوں۔جن کو خیرات سے پیار نہ ہو خیرات دینے والے ہاتھ سے پیار ہو۔اللہ تعالیٰ ہمیں اس کی توفیق عطا فرمائے۔