ذوق عبادت اور آداب دُعا — Page 278
278 دنیا کا ایک بہت بڑا انسان ہے اور سخت کلامی سے وہ بات سمجھ نہیں سکے گا۔یہاں قول لین کہنے کی کیا ضرورت تھی حقیقت میں یہ حضرت موسیٰ کی دعا کا جواب ہے حضرت موسیٰ نے عرض کیا تھا يفقهوا قولي اے خدا! ایسی بات کہنے کی توفیق عطا فرما کہ وہ سمجھ جائیں پس قول لین کسی فرعون کے رعب کی وجہ سے نہیں ہے، اس کے خوف کی وجہ سے نہیں ہے بلکہ انسانی فطرت کا یہ راز کھولا جا رہا ہے کہ جب تم بڑے آدمیوں سے بات کرو تو اگر تم اکڑ کر بات کرو گے اور یہ سمجھتے ہوئے کہ تم خدا کے نمائندہ ہو ، تمہیں نرمی کی کوئی ضرورت نہیں ہے تو بات تو تم کر لو گئے اللہ تمہیں بچا بھی سکتا ہے لیکن پھر وہ بات سمجھیں گے نہیں۔ایسے دنیا دار لوگ جو دنیا کی بڑائیوں کے نتیجہ میں اپنے آپ کو بہت اونچا سمجھ رہے ہوتے ہیں وہ نرم بات سننے کے عادی ہوتے ہیں، نرمی کی بات ان پر اثر کر سکتی ہے، سخت بات اور اونچی بات سے وہ اور زیادہ بھڑک اٹھتے ہیں اور برک جاتے ہیں۔پس قولا لینا کی یہ نصیحت دراصل يَفْقَهُوا قولي کی دعا کی استجابت کا ایک نشان ہے اسی کے نتیجہ میں یہ ہدایت فرمائی گئی ہے لعل بعد محر او بخشی اس طرح ایک صورت پیدا ہو سکتی ہے کہ شائد وہ نصیحت پکڑے یا شائد خدا کا خوف اختیار کرے تو جب یہ دونوں پہنچے۔دیکھیں یہاں ہر جگہ دونوں کو حکم دیا گیا ہے تشبیہ کے صیغہ سے۔فرعون دونوں کی طرف متوجہ نہیں ہوا۔موسیٰ کو مخاطب ہو کر اس نے کہا فَمَن رحما موسی اے موسیٰ تو بتا کہ تم دونوں کا رب کون ہے؟ فرعون بھی سمجھ گیا تھا کہ ہیں یہ دونوں ہی نمائندہ مگر بڑا نمائندہ یہ ہے اس لئے میں اسی کو مخاطب ہوں گا اس کے بعد ساری گفتگو حضرت موسیٰ نے کی ہے۔حضرت ہارون ایک لفظ نہیں بولے۔قَالَ رَبُّنَا الذي أعطى كُلّ شَيْءٍ خَلَقَهُ ثُمَّ هَدی موسیٰ نے جواب دیا دونوں نے جواب نہیں دیا۔رَبُّنَا الذي أعطى كُلَّ شَيء خلقه وہی ہمارا رب ہے جس نے ہر چیز کو خلقت عطا فرمائی ہے ، مهدی پھر اسے ہدایت کے رستہ پر ڈال دیا پس دیکھیں کس لطافت اور باریکی کے ساتھ ساری دعا قبول ہوتی ہے۔اللہ تعالٰی جانتا تھا کہ موسیٰ کو طاقت عطا کی جائے گی اسے کسی وزیر کی ضرورت نہیں ہوگی مگر چونکہ