ذوق عبادت اور آداب دُعا

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 277 of 528

ذوق عبادت اور آداب دُعا — Page 277

277 پیغام لے کر جا رہا ہوں تو تو ہی ہے جو میری زبان کی گرہ کشائی فرما اور اس گرہ کو کھول دے يَفْقَهُوا قولي اور ایسی فصاحت كلام عطا کر کہ جو میں کہوں اس کو خوب اچھی طرح وہ لوگ سمجھنے لگیں۔صرف میں بات ہی نہ کرنے والا ہوں بلکہ وہ بات ذہنوں سے دلوں تک اتر جانے والی ہو اور وہ خوب اچھی طرح سمجھ رہے ہوں۔پھر عرض کیا واجْعَل أي وزيرا من اهیلي لیکن میرے اہل میں سے ایک وزیر بھی میرا مقرر فرما دے۔فرون آجی یہ میرا بھائی ہارون ہے میں اس کی تجھے سے التجا کرتا ہوں اشد دیم آذری اس کے ذریعہ میرا بازو میری طاقت کو مضبوط فرما واشرحه ي آمدني اور میرے ساتھ جو تو نے نیکی کا معاملہ کیا ہے اس میں اس کو بھی شریک کردے۔پس دنیا میں تو انسان شریک نہیں چاہتا لیکن نیکیوں میں شریک چاہنے کی دعا ہمیں بتائی گئی ہے کہ یہ ایک ایسی دولت نہیں ہے کہ جس کو تم اپنے تک محدود رکھو اور دوسروں تک پہنچانے سے بخل سے کام لو۔اس میں خدا تعالیٰ سے خود شریک مانگا کرو - كي تستحك خيرا اے خدا یہ اس لئے ہو کہ ہم۔سب مل کر پھر تیری خوب تسبیح کریں۔ونذ محرك كثيرا اور خوب تیرا ذکر بلند کریں۔إِنَّكَ كُنتَ بِنَا بَصِيرًا اے خدا تو ہمیں خوب دیکھ رہا ہے۔اس دعا میں حضرت موسیٰ نے جو وزیر مانگا اس کی دلیل یہ دی کہ میں بول نہیں سکتا۔اگرچہ یہ دعا بھی ساتھ کی کہ اے خدا میری زبان کی گرہ کھول دے، مجھے بولنے کی طاقت عطا فرما اور صحیح بولنے کی طاقت عطا فرما میرا پیغام مخاطب خوب اچھی طرح سمجھ سکے اس کے باوجود اپنا ایک وزیر مانگا کیونکہ دل میں پوری طرح اطمینان نہیں تھا کہ میں اس حق کو ادا کر سکوں گا کہ نہیں۔اللہ تعالٰی نے دونوں دعائیں قبول کر لیں۔وزیر تو بنا دیا لیکن اللہ تعالٰی جانتا تھا کہ ضرورت اس کی کوئی نہیں ہے اور بڑا دلچسپ مضمون پیدا ہوا۔چنانچہ اللہ تعالٰی فرماتا ہے کہ جب ہم نے حکم دیا تو موسیٰ کی دعا کے نتیجہ میں دونوں کو حکم دیا۔کہا : اذْهَبَا إِلى فِرْعَوْنَ إِنَّهُ طَف اے موسیٰ اور اے موسیٰ کے بھائی ایم دونوں فرعون کی طرف جاؤ اس نے بہت ہی سرکشی سے کام لیا ہے فقوله له قولا لینا اور تم دونوں اس سے بات کرتے ہوئے نرمی کی بات کرنا کیونکہ وہ