ذوق عبادت اور آداب دُعا

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 276 of 528

ذوق عبادت اور آداب دُعا — Page 276

276 تو اپنے طبیعی تقاضے کی وجہ سے بس اس تمنا میں مر رہے ہوتے ہیں کہ ہم بے اولاد مرے جاتے ہیں مگر اللہ تعالیٰ نے جن انبیاء کی دعائیں ہمارے لئے محفوظ رکھی ہیں۔جن بزرگ خواتین کی دعائیں ہمارے لئے محفوظ فرمائی ہیں وہاں ہمیشہ ایسی اولاد کی تمنا کی گئی ہے جو نیک ہو جو خدا والی ہو جو بزرگوں کے ولی بننے کی اہلیت رکھتی ہو، اور جو اپنے بزرگ والدین کی نیکیاں ورثے میں پانے والی ہو۔پس احمدیوں کو بھی جو اولاد کی نعمت سے محروم ہیں اس جذبہ کے پیش نظر اسی سنت کے مطابق دعائیں کرنی چاہئیں اور ہمیشہ نیک اولاد کی دعا کرنی چاہیئے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے ہیں اس کے سوا اولاد کی جو دعائیں ہیں سب مردود اور دنیا کے قصے ہیں ان کی کوئی حیثیت نہیں ہے۔داعیان الی اللہ کیلئے قیمتی دعا اب ایک دعا حضرت موسیٰ علیہ السلام کی بیان کر کے پھر میں سردست اس مضمون کو یہاں ختم کروں گا کیونکہ آج خدام کا اجتماع ہے اور اور بھی یہاں بہت ہے پروگرام ہونے والے ہیں۔باقی مضمون انشاء اللہ بعد میں جاری رہے گا۔حضرت موسیٰ کی یہ دعا قرآن کریم میں مذکور ہے قَالَ رَت اشتر خويي صدري اے میرے اللہ میرا سینہ کھول دے۔اے میرے رب میرا سینہ کھول دے۔وينزل آفرینی اور جو فریضہ تو نے مجھے پر عائد فرمایا ہے اسے آسان کردے۔دا عین الی اللہ جو خدا تعالیٰ کی راہ کی طرف بلانے کے لئے نکلتے ہیں ان کے لئے یہ دعا ایک نعمت غیر مترقہ ہے۔ایک عظیم الشان نعمت ہے۔اس دعا کو ذہن میں رکھ کر اور اسی طرح یہ دعا کرتے ہوئے جس روح اور جذبے کے ساتھ حضرت موسیٰ نے یہ دعا کی تھی، اگر کوئی داعی الی اللہ وقت کے بڑے بڑے جابر کو بھی دعوت دینے کیلئے نکلے گا تو اللہ تعالٰی کے فضل کے ساتھ اس کو شرح صدر عطا ہو گا۔اس کی زبان کھولی جائے گی اس کی مشکلات آسان کی جائیں گی اور اس جابر کے خوف سے اس کو بچایا جائے گا۔واحْلُلْ عُقْدَةٌ من لساني کہ مجھ سے تو صحیح گفتگو نہیں ہوتی۔میں تو متلاتا ہوں اور اٹک کر بولتا ہوں۔اور وقت کے اس زمانے کے سب سے بڑے جابر کے پاس تیرا