ذوق عبادت اور آداب دُعا

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 270 of 528

ذوق عبادت اور آداب دُعا — Page 270

270 پس اس دعا کا بھی توحید کے ساتھ بہت گہرا تعلق ہے۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے إذ اوى الشيةُ إلَى الْكَهْفِ فَقَالُوا رَتَنَّا ابْنَا مِن لَّدُنكَ رَحْمَةً وَهَنُ لَنَا من امرنا رشدا اور یاد کرو اس وقت کو کہ جب نوجوانوں کی ایک جماعت (فشيه سے مراد نوجوانوں کی جماعت ہے) غار میں داخل ہونے لگی۔غاروں کی طرف مائل ہو گئی اور یہ غاروں کی زندگی بسر کرتے ہوئے انہوں نے دعا کی کہ اے خدا دنیا سے تو ہمیں اب رحمت کی کوئی امید نہیں رہی۔ربنا أينَا مِن لَّدُنكَ رَحْمَةً مِیں مِن لدنك پر بہت زور ہے۔من لدنك کا مطلب ہے کہ اب اپنی جناب سے تو نے جو کچھ دیتا ہے عطا کرنا۔اگر دنیا میں کوئی رحمت کا دودھ باقی ہو تا تو ہمیں کیا ضرورت تھی کہ انسانوں کی طرح سطح زمین پر بسنے کی بجائے ہم جانوروں کی طرح غاروں میں اتر جاتے۔یہ عیسائیت کی پہلی صدی اور پھر دوسری اور تیسری صدی کے ان موحدین کا ذکر ہے جنہوں نے توحید کی خاطر عظیم الشان قربانیاں دی ہیں اور یہ قربانیاں ان کو رومن حکومت کے مظالم کے مقابل پر بھی دینی پڑیں اور بعض عیسائی متعصب فرقوں کے مقابل پر بھی دینی پڑیں جو رفتہ رفتہ توحید سے تثلیث کی طرف گمراہ ہو چکے تھے۔پس ان کا یہ ذکر تاریخی لحاظ سے ہر اس قوم کے لئے اہمیت رکھتا ہے جس کو خدا کی راہ میں تکلیفیں پہنچائی جائیں گی اور بڑی بڑی آزمائشوں میں ڈالا جائے گا۔اس سے پہلے میں نے حضرت یوسف کی ایک دعا آپ کے سامنے رکھی تھی۔اور خدا تعالیٰ نے فرمایا کہ یہ بہت ہی حسین قصہ ہے کہ یوسف نے یہ دعا کی کہ اے خدا یہ عورتیں جن لذتوں کی طرف مجھے بلاتی ہیں رب السجن احب الي مِمَّا يَدُ مُوْتَنِي اليها أحَبُّ إِلَيَّ میرے اللہ مجھے قید خانہ زیادہ پیارا ہے بجائے اس کہ میں انکی دعوت کے نتیجہ میں دنیاوی لذتوں کو اختیار کرلوں اور تیری رضا کو تیج کردوں۔یہ اس سے ملتی جلتی دعا ہے۔عیسائی قوم نے بھی آغاز میں خدا کی خاطر بہت ہی عظیم الشان قربانیاں دی ہیں اور ان کی قربانیوں کی یاد زندہ رکھنے کے لئے قرآن کریم نے ہمیں بتایا کہ انہوں نے دنیا کی سطح کے مقابل پر غاروں میں بسنا پسند کر لیا۔تہذیب کو چھوڑ کر پرانے زمانوں کی طرف لوٹ گئے جبکہ انسان ابھی متمدن نہیں ہوا تھا اور یہ عرض کیا کہ اے خدا اب ہمیں دنیا والوں اے