ذوق عبادت اور آداب دُعا — Page 269
269 ان سب باتوں کو اگر ہم پیش نظر رکھیں تو اس دعا میں بہت گہرائی پیدا ہو جاتی ہے اور بہت عظمت پیدا ہو جاتی ہے اور یہ دعا اگلوں کے لئے بھی مفید ہے اور گزرے ہوؤں کے لئے بھی مفید ہے اور ہر طرف برا براثر دکھاتی ہے۔توحید باری تعالٰی کے ساتھ اس مضمون کا بہت گہرا تعلق ہے کیونکہ سوسائٹی میں وعدت توحید کے اعلیٰ قیام کے لئے ضروری ہے۔اور سوسائٹی میں وحدت تبھی ممکن ہے اگر والدین کا اولاد کے ساتھ اور اولاد کا والدین کے ساتھ گہرا اٹوٹ تعلق قائم ہو چکا ہو۔اس کے نتیجہ میں خاندان استوار ہوتے ہیں اسی کے نتیجہ میں سوسائٹی میں یک جہتی پیدا ہوتی ہے۔جہاں خاندانی رشتے ٹوٹ جائیں جہاں والدین اپنی اولاد سے الگ ہونے شروع ہو جائیں وہاں سوسائٹی پارہ پارہ ہو کر بکھر جاتی ہے اور ایک بکھری ہوئی منتشر سوسائٹی توحید پر قائم نہیں ہوا کرتی پس وحدت کے ساتھ اس مضمون کا ایک اور بھی گہرا تعلق ہے یعنی ایک تعلق تو یہ ہے کہ خدا کو اپنی توحید کے بعد سب سے زیادہ یہ چیز پیاری ہے کہ مومن احسان کا بدلہ احسان کے ساتھ دینے والا ہو اور دوسرا تعلق یہ ہے جو میں نے بیان کیا ہے۔تو حید پر قائم رہنے کے لئے اصحاب کہف کی دعا۔اب ایک اور دعا میں آپ کو بتا تا ہوں قرآن کریم میں سورۃ الکہف آیت ! میں یہ دعا بیان ہوئی ہے۔رنتانيا من لدُنْكَ رَحْمَةً وَهَوَنُ لَنَا مِنْ أَمْرِنَا رشدا کہ اے ہمارے رب ہمیں اپنی جناب سے اپنے حضور سے رحمت عطا فرما ومين لنا من امرنا رشدا اور ہمارے لئے اپنی جناب سے ہدایت اور رشد کے سامان پیدا فرما۔ہمیں ہدایت اور رشد عطا فرما۔اس دعا کا بھی ایک پس منظر ہے۔یہ دعا ان اصحاف کہف کی دعا ہے جن کے متعلق قرآن کریم فرماتا ہے کہ ان پر جب دنیا تنگ ہو گئی جب سطح زمین پر بسنا ان کے لئے ممکن نہ رہا تو بجائے اس کے کہ وہ توحید سے تعلق توڑتے انہوں نے یہ زیادہ پسند کیا کہ سطح زمین پر بسنے کی بجائے غاروں میں اتر جائیں اور بنی نوع انسان سے چھپ کر اپنی زندگی بسر کریں تاکہ توحید پر قائم رہ سکیں۔