ذوق عبادت اور آداب دُعا — Page 271
271 سے رحمت کی کوئی امید نہیں رہی۔اتنا مِن لَّدُنكَ رَحْمَةً اب تیرے سوا کوئی عطا کرنے والا نہیں ہے تو اپنی جناب سے ہمیں رحمت عطا فرما۔دمين لنا من امرنا رشدا اور محض اپنے فضل اور رحمت کے نتیجہ میں ہمیں ہدایت پر قائم رکھتا کیونکہ ہدایت کی خاطر ہم یہ قربانی دے رہے ہیں اگر غاروں میں بسنے کے باوجود ہم ہدایت سے خالی ہو گئے یا دوبارہ گراہ ہو گئے تو ہماری یہ قربانیاں ضائع جائیں گی۔جماعت احمدیہ کے حالات پر صادق آنے والی دعا جماعت احمدیہ کے حالات پر یہ دعا بہت صادق آتی ہے اس لئے خصوصیت کے ساتھ پہلے مسیح کے ماننے والوں کی قربانیوں کو یاد رکھتے ہوئے اب اپنے لئے وہی ترجیحات قائم رکھیں جو پہلے مسیح کے مانے والوں نے اپنے لئے قائم رکھی تھیں کہ دنیا کی خاطر ہدایت کو قربان نہیں ہونے دیں گے اور مظالم سے گھبرا کر وہ ہدایت کی راہ نہیں چھوڑیں گے اور اللہ تعالٰی سے مدد مانگتے ہوئے اگر تمام انسانی حقوق سے محروم بھی کر دئیے جائیں گے تب بھی وہ خدا تعالٰی سے دعائیں کرتے ہوئے اس زندگی کو خوشی کے ساتھ قبول کرلیں گے۔اس لئے مجھے اس کا خیال آیا کہ بعض دفعہ پاکستان میں تکلیفیں اٹھانے والے بعض احمدی مجھے شکایت کے خط لکھ دیتے ہیں کہ ہماری ترقیات رک گئیں۔بچے لکھ دیتے ہیں کہ تعلیم کے معاملے میں ہم سے برا سلوک ہو رہا ہے۔ہمارے حقوق ادا نہیں کئے جا رہے اور وہ یہ نہیں سوچتے کہ یہ تو مسیح محمدی کو ماننے والے ہیں اور مسیح موسوی کی قوم نے کتنی عظیم الشان قربانیاں دی تھیں اور کتنے ثبات قدم کے ساتھ ان قربانیوں پر قائم رہے تھے اور کچھ بھی پرواہ نہیں کی تھی کہ ان کو انسانی حقوق سے کسی حد تک محروم کیا جاتا ہے اور قرآن کریم فرماتا ہے اس حد تک محروم کر دیا گیا کہ سطح زمین پر بسنا ان کے لئے ممکن نہیں رہا۔انسانوں والی زندگی بسر کرنا ان کے لئے ممکن نہیں رہا۔پس اگر مسیح موسوی کے غلاموں نے ایسا عظیم الشان قربانی کا مظاہرہ کیا تو محمد مصطفی صلی اللہ علیہ و علیٰ آلہ وسلم کے مسیح کی طرف منسوب ہو کر یہ اوٹی چھوٹی چھوٹی باتیں اس جماعت کو زیب نہیں دیتیں۔دشمن جو چاہتا ہے کہ گزرے۔جب تک چاہتا ہے اپنے مظالم پر اصرار کرتا چلا جائے مگر یہ دعا مانگتے ہوئے ا