ذوق عبادت اور آداب دُعا

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 24 of 528

ذوق عبادت اور آداب دُعا — Page 24

24 خصوصیت سے اختیار کیا اور پھر ایک ایک ذریعے سے تعلق رکھنے والے مختلف جانوروں کی مثالیں پیش کر کے یہ مضمون کھول کر سامنے رکھا۔اس وقت صاف دکھائی دینے لگتا ہے کہ ایک حیرت انگیز خلاق عظیم ہے جس نے با قاعدہ ایک نظام کے تابع یہ حیرت انگیز کائنات پیدا فرمائی ہے۔یہ اتفاقات کا حادثہ نہیں ہے۔چنانچہ مثال کے طور پر روشنی کے ذریعے جانور ایک دوسرے سے رابطے پیدا کرتے ہیں۔وہ دکھاتا ہے کہ کس طرح جگنو جو چمکتے ہیں، ہم لوگ یہ سمجھ رہے ہوتے ہیں بچے بھی اس سے کھیلتے ہیں اور دلچسپی لیتے ہیں کہ اتفاقاً " اس کے اندر روشنی کا کوئی مادہ پیدا ہو گیا ہے جو خود بخود جلتا پچھتا رہتا ہے اور یہی اس کا مقصد ہے لیکن قرآن کریم فرماتا ہے کہ جب وہ غور کرتے ہیں تو بے اختیار ان کے دل سے یہ بات نکلتی ہے کہ رَبَّنَا مَا خَلَقْتَ هَذا بَاطِلاً اے خدا! تو نے یہ چیزیں باطل اور بے مقصد پیدا نہیں فرمائیں۔تو یہی بات کہ باطل نہیں پیدا فرمائی" یہاں تک تو دنیا کے سائنس دان پہنچنے لگے ہیں۔خدا کرے اس سے اگلا قدم بھی اٹھالیں اور فَقِنَا عَذَابَ النَّارِ تک بھی پہنچ جائیں اور ذکر الہی میں بھی مشغول ہو جائیں۔ہو سکتا ہے کہ کچھ ہوں بھی لیکن اکثریت بد نصیبی سے اس سے محروم ہے۔تو روشنیوں سے جو پیغام رسانی کی جاتی ہے اس کے متعلق اس نے مختلف ملکوں میں مختلف موسموں میں جگنوؤں کا پیچھا کیا اور ان کی فلمیں بنائیں اور پھر ان کے پیغامات پر غور کر کے ان کو سمجھا اس حد تک ان کو سمجھا کہ سائنسی لحاظ سے پھر وہ ثابت بھی کر سکتا ہے کہ جو نتیجہ میں نکال رہا ہوں یہ درست ہے۔جہاں تک پیغامات کا تعلق ہے ان سائنس دانوں کی نظر صرف یہاں تک پہنچتی ہے کہ نر کا پیغام مادہ کو کس طرح پہنچتا ہے۔مادہ کا پیغام تر کو کس طرح پہنچتا ہے لیکن DAVID ATTENBOROUGH کچھ آگے بھی قدم بڑھا چکا ہے اور یہ باتیں کہنے کے بعد جو عام طور پر سائنس دان کہتے ہیں کچھ مثالیں ایسی بھی پیش کرتا ہے جس سے معلوم ہوتا ہے کہ صرف اتنی سی بات نہیں ہے اور بھی بہت سی باتیں ہیں اور بھی بہت کچھ یہ ایک دوسرے سے کہہ رہے ہیں اور ان کی روشنیوں کی باقاعدہ ایک زبان ہے۔چنانچہ جگنوؤں کی پیروی میں وہ ملائشیا بھی گیا اور وہاں اس نے ایسے ایسے عظیم مناظر