ذوق عبادت اور آداب دُعا — Page 25
25 دیکھے کہ جن کو دیکھ کر انسان کا دل اللہ تعالیٰ کی حمد سے لبریز ہو جاتا ہے۔ایک بہت بڑے درخت پر لکھو کھا جگنو بھی ہو سکتے ہیں۔اتنے کہ یوں معلوم ہوتا ہے کہ پتے پتے پر ایک جگنو ہے اور وہ سارے کے سارے ایک ہم آہنگی کے ساتھ جس طرح قال پر سر چلتے ہیں اس طرح ایک نغمگی کے ساتھ اکٹھے بجھتے ہیں اور اکٹھے جلتے ہیں اور ان کے درمیان کوئی فرق نہیں جیسے ایک دل دھڑک رہا ہو، جیسے نبض چلتی ہو اس طرح وہ سارے ایک دم جلتے ہیں اور ایک دم بجھتے ہیں۔وہ کہتا ہے کہ عجیب بات ہے کہ ہم نے امریکہ میں بھی دیکھے، وہاں اکیلے اکیلے جگنو چمکتے بجھتے دیکھے لیکن یہ خدا کی عجیب کائنات ہے کہ ان سب نے ایک دوسرے سے ہم آہنگی سیکھ لی ہے اور پھر اس نے مزید جب ان پر غور کیا تو اس نے یہ بات معلوم کی کہ ترجب چمکنے کے ذریعہ مادہ کو پیغام بھیجتا ہے اگر مادہ اس کا جواب دینا چاہیے اور اپنی طرف بلانا چاہے تو یونہی اتفاقا" ایک طبیعی رد عمل کے طور پر وہ نہیں چمکے گی بلکہ بعینہ 2 سیکنڈ انتظار کے بعد آدھے سیکنڈ کے لئے چمکے گی جس کا مطلب یہ ہے کہ ہاں میں تیار ہوں تم سے تعلق قائم کرنے کے لئے میری طرف آجاؤ۔چنانچہ اس نے روشنی سے یعنی ٹارچ کے ذریعے یہ کر کے دکھایا۔جب جگنو چمکے تو اس کے پورے دو سیکنڈ کے بعد اس نے ہاتھ پر تھوڑی سے ٹارچ روشن کی اور آدھا سیکنڈ صرف روشن کی اور اڑتے ہوئے جگنو وہاں پہنچ گیا لیکن یہ جو اتنی سی بات اس نے حاصل کی ہے اس کے لئے سالہا سال کی محنت اس کو کرنا پڑی ہو گی، غور کرنا پڑا ہو گا اور ایک چھوٹا سا علم اس کو حاصل ہوا جس کو اس نے سائنسی طور پر ثابت بھی کر دیا۔مجھے یاد ہے جب میں ایک دفعہ بنگلہ دیش گیا تو خیال تھا، سندربن میں کئی نئی جماعتیں قائم ہو رہی تھیں کہ سند رین بھی جانا چاہیے۔یہی نظارہ میں نے پہلی مرتبہ سند رہن میں دیکھا تھا اور مجھے علم نہیں تھا کہ ملائیشیا میں بھی ایسا ہوتا ہو گا اور آج تک مجھے اس کی کیفیت یاد تو ہے لیکن نا قابل بیان ہے۔جب آپ خود یہ نظارہ دیکھیں کہ دور تک میل ہا میل تک سارے درخت جگنوؤں سے بھرے ہوئے ہیں اور سارے بیک لخت بجھتے اور بیک لخت جلتے ہیں اور انسانی روشنیوں کا کوئی کھیل اس سے زیادہ دل کو متاثر نہیں کر سکتا لیکن ملائیشیا کاتو مجھے علم نہیں مگر بنگلہ دیش میں سندربن میں ایک مزید