ذوق عبادت اور آداب دُعا — Page 23
23 دہیں نہیں اٹکا رہتا بلکہ مصور کی طرف منتقل ہوتا ہے اور اس کی تعریف کی طرف دل مائل ہوتا ہے۔بعینہ یہی نتیجہ کائنات پر غور کرنے کا نکلنا چاہئیے تھا اور جب بھی خدا تعالی کی نئی نئی صنعتیں اور حیرت انگیز تخلیق کے کارنامے ہمارے سامنے آتے تو اسی حد تک اسی شناسائی کے معیار کے مطابق ہمیں اللہ تعالیٰ کے ذکر میں مصروف ہو جانا چاہیئے تھا مگر قرآن کریم فرماتا ہے تم دیکھتے تو ہو لیکن تم سمجھتے نہیں ہو۔یہ تو بڑا دلچسپ مضمون ہے، اگرچہ مجھے اتنا وقت نہیں ملتا کہ میں اس قسم کی سب فلمیں دیکھ سکوں بعض دیکھ لیتا ہوں اور بعض کے متعلق ہمارے عبدالباقی ارشد صاحب کا بیٹا نبیل ہے اس کو میں کہہ دیتا ہوں وہ میرے لئے تیار کر لیتا ہے اور ریکارڈ کر کے پھر بعد میں مجھے بھجوا دیتا ہے اور میں نے بہت سی اس غرض سے بھی ربوہ بھیجوائیں کہ وہاں کی نئی نسلوں میں فلمی گانوں کے جو شوق اور بیہودہ فلمیں دیکھنے کے شوق پیدا ہو رہے ہیں وہ یہ کچھ دیکھیں جن کا قرآن کریم میں ذکر آتا ہے۔جن کے متعلق توجہ دلائی گئی ہے کہ ان چیزوں کو دیکھو ان پر غور کرو اور پھر تمہیں خدا تعالٰی سے محبت پیدا کرنے کے لئے کوئی کوشش نہیں کرنی پڑے گی۔از خود تمہارے دل میں خدا کی محبت موجیں مارنے لگے گی۔اور بے اختیار ذکر میں محو ہو جاؤ گے اور تسبیح از خود، خودرو چشموں کی طرح تمہارے دل سے پھوٹنے لگے گی مگر چند بھجوائی ہوں گی۔بہت سی ایسی ہیں تو میرا خیال ہے کہ انشاء اللہ اور بھی اکٹھی کر کے وہاں بھی بھیجوائی جائیں اور افریقہ وغیرہ کے ممالک میں بھی ایسی فلمیں بھجوائی جانی چاہیں اور بچپن ہی سے بچوں کو دکھا کر ان کے مضامین سے ان کو شناسائی کروانی چاہیئے۔اب میں آپ کے سامنے مثالیں رکھتا ہوں کہ کس طرح یہ شخص خدا تعالٰی کی طرف سے غیر معمولی طور پر صلاحیتیں عطا کیا گیا ہے اور نہایت ہی اعلیٰ طریق پر یہ ان مضامین کو ہم سے روشناس کراتا ہے جبکہ کسی اور سائنس دان کو میں نے اس حکمت اور عقل اور گہرائی کے ساتھ ایسی فلمیں بناتے ہوئے نہیں دیکھا۔ایک مضمون ہے آپس میں جانور ایک دوسرے سے کس طرح اپنے مطالب بیان کرتے ہیں۔کس طرح ایک دوسرے سے رابطے پیدا کرتے ہیں۔اس ضمن میں اس نے مختلف ذرائع کو