ذوق عبادت اور آداب دُعا

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 248 of 528

ذوق عبادت اور آداب دُعا — Page 248

248 فَأُمَيَّعُهُ قَلِيلًا ثُمَّ اضْطَرة إلى عَذَابِ النَّارِ، وَبِئْسَ الْمَصِيرُ (البقرة : ۱۲۷) جب ابراہیم نے خدا سے یہ عرض کیا کہ اے خدا! اس جگہ کو تو ایک شہر میں تبدیل فرما جو امن کا شہر ہو اور اس میں بسنے والوں کو تو ہر قسم کے رزق عطا فرما۔ہر قسم کے پھل عطا فرما۔مَنْ مَنَ مِنْهُمْ بِاللهِ وَالْيَوْهِ الْأخر یعنی ان سب کو جو اللہ پر ایمان لے آئیں اور آخرت پر ایمان لے آئیں۔قَالَ وَمَن كَفَرٌ فَاميمه قليلا فرمایا۔اے ابراہیم! میں تیری دعا کو اس سے زیادہ قبول کرتا ہوں جتنا تو مانگ رہا ہے جو ان میں سے ایمان نہیں بھی لائے میں دنیا کی زندگی میں ان کو بھی فائدہ پہنچاؤں گا۔ہاں آخرت میں ان کو میں عذاب دوں گا۔یہ جو آخرت کے عذاب کا جواب تھا اس نے حضرت ابراہیم کو بڑا ڈرا دیا ہے اور اگلی دعا میں پھر آپ نے ترمیم کرلی ہے۔اس ترمیم کی طرف میں آپ لیکر جاؤں گا تو پھر آپ سمجھیں گے کہ اس دعا میں اور اس دعا میں کیوں فرق ہے ؟ اور کیسے پیارے انداز میں پھر آپ نے وہ ترمیم کرکے دعا کی ہے۔کہتے ہیں هَذَا الْبَلَدَا مِنَّا جُنُبْنِي وبنا أن نعبد الاصنام پتہ لگ گیا ہے کہ کوئی ظالم ضرور پیدا ہوں گے۔کچھ مشترک پیدا ہوں گے۔شہر توحید کی خاطر بنایا گیا لیکن میں شرک کرنے والے بھی داخل ہو جائیں گے تو یہ دعا کی کہ اے خدا! مجھے اور میری اولاد کو اس بات سے بچائے رکھ کہ ہم کبھی بھی بتوں کی پرستش کریں۔رَبِّ إِنَّهُنَّ أَضْلَلْنَ كَثِيرًا مِنَ النَّاسِ کہ ان بتوں اور جھوٹے خداؤں نے تیرے اکثر بندوں کو گمراہ کر دیا۔فَمَن تعني فإنه مني جو ان میں سے میری پیروی کرنے گا وہ میرا ہو گا اور جو میرا ہو گا وہ موحد ہی رہے گا۔اس لئے میروں پر تو تو ناراض ہو گا ہی نہیں۔کس طرح ان کا دامن بچالیا۔پہلے خدا نے اس دعا کے نتیجے میں ایک استثناء کیا تھا اور کہا تھا کہ میں ان کے ساتھ دنیا میں تو حسن سلوک کرتا رہوں گا لیکن آخرت میں ان کو پکڑوں گا۔اس کے بعد یہ کہا کہ جو میرا ہو گا اس کو تو تو لازما" سزا نہیں دے گا کیونکہ مجھ سے تو اتنا پیار کرتا ہے اور مجھے سے تو ایسا حسن سلوک فرماتا ہے کہ یہ کیسے ہو سکتا ہے کہ جو میرا ہو اس کے ساتھ بھی تو