ذوق عبادت اور آداب دُعا

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 247 of 528

ذوق عبادت اور آداب دُعا — Page 247

247 تو کیسے کیسے حسین دلکش نظارے ان پردوں کے پیچھے دکھائی دیتے ہیں اور صرف یہی نہیں بلکہ پردوں کے پیچھے اور پردے ہوتے ہیں۔آپ اور بیچ میں داخل ہوتے چلے جائیں۔اپنے نفس پر ان مضامین کو وارد کرتے رہیں تو آپ کو اور زیادہ لطیف اور دلکش نظارے ان کے پیچھے سے دکھائی دیتے چلے جائیں گے۔شرک سے بچنے کے لئے حضرت ابراہیم کی دعا پھر ابراہیم علیہ الصلوۃ والسلام کی دوسری دعا جو اس سے ملتی جلتی ہے جو پہلے گزر چکی ہے۔وہ یہ بیان فرمائی گئی وراذ قال ابرُ هِيمُ رَبِّ اجْعَلْ هَذَا الْبَلَدَا مِنَّا واجْنُبْنِي وَبَنِي أَنْ نَعْبُدُ الْأَصْنَامُ (سوره ابرانیم : ۳۶) یہ جو دعا ہے یہ اس دعا سے ملتی جلتی لیکن اس سے مختلف ہے جو سورہ بقرہ کی ۱۳۵ اور آگے پیچھے کی آیات میں درج تھی۔وہاں بھی یہ ذکر ہے کہ واذ قالَ ابرُ هِيمُ رَبِّ اجْعَلْ هَذَا بلدا أمنا سرسری نظر سے پڑھیں تو ایک ہی دعا لگتی ہے۔دونوں جگہ اس شہر کے امن کی دعا مانگی گئی ہے۔اس کے امین ہونے کی دعا مانگی گئی ہے لیکن حقیقت میں جو پہلی دعا تھی اس میں شہر کے لئے دعا نہیں مانگی تھی، جگہ کے لئے دعا مانگی تھی کیونکہ وہاں یہ دعا ہے رَبِّ اجْعَلْ هَذَا بَلَدًا مِنَّا یہ جگہ چٹیل میدان جہاں کچھ بھی نہیں ہے اسے ایک رستے بستے شہر میں تبدیل فرما دے۔پس یہ دعا جواب کی گئی ہے اس میں یہ نہیں فرمایا کہ اس جگہ کو امن کی جگہ بنا دے بلکہ فرمایا ہے هذا البلد امنا کہ اے خدا! تو نے میری دعاؤں کو سن لیا اور اس جگہ کو شہر بنا چکا ہے۔اب یہاں با قاعدہ آبادی ہے۔اب میں اس شہر کے لئے تجھ سے امن کی دعا مانگتا ہوں۔اس کے بعد اس دعا میں بعض ایسی باتوں کا ذکر ہے جو دراصل پہلی دعا کے ساتھ گہرا تعلق رکھتی ہیں اور ان کے جواب میں اللہ تعالی نے آپ سے جو خطاب فرمایا اس کو پیش نظر رکھتے ہوئے اپنی دعا میں ترمیم کی گئی ہے۔پہلی دعا آپ کو یاد دلانے کے لئے پڑھتا ہوں۔وہ یہ تھی : واذ قالَ ابرُ هِيمُ رَبِّ اجْعَلْ هَذَا بَلَدَا مِنَّا وَارْزُقُ أَهْلَهُ مِنَ الثَّمَرتِ مَنْ آمَنَ مِنْهُمْ بِاللهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ قَالَ وَمَن كَفَرَ