ذوق عبادت اور آداب دُعا

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 246 of 528

ذوق عبادت اور آداب دُعا — Page 246

246 مبر کے ساتھ اس تکلیف کو برداشت کرنا اور بات ہے۔پس خدا تعالیٰ نے اس حسین قصے میں جو سب سے زیادہ حسین ہے ہمیں یہ بتایا کہ یوسف نے دعا مانگی اور ہم نے اس کی دعا کو قبول کیا تو محض اس کو تکلیف دینے کے لئے نہیں بلکہ ساری دنیا کو بتانے کے لئے اور ہمیشہ کے لئے بتانے کے لئے کہ وہ دعا میں انتہائی سچا اور مخلص تھا۔واقعہ " اس کو قید خانہ اور اس کی صعوبتیں دکھائی دے رہی تھیں اور وہ ان کی پناہ مانگ رہا تھا کہ اے خدا! اس عیش کی زندگی سے مجھے وہاں ڈال دے چنانچہ پھر انہوں نے اسے خوشی سے قبول کیا، وہاں رہے، وہاں تبلیغیں کرتے رہے، وہاں خدا کی یاد میں مزے کی زندگی گزاری اور ایک ذرہ بھی دل میں شکوہ پیدا نہیں ہوا کہ مجھے معصوم کو جو آج ساری دنیا میں سب سے زیادہ معصوم انسان ہے بے جرم کیوں مارا جا رہا ہے اور پھر آخر پر جب آپ کو وہاں سے نجات ملتی ہے تو پھر اس وقت بہت ہی عجیب حیرت انگیز انکسار کا اظہار کرتے ہیں۔پیغامبر کو کہتے ہیں پہلے اپنے آقا بادشاہ سے کہو کہ وہ جو عورتیں تھیں جنہوں نے الزام لگایا تھا ان کا حال تو پوچھو۔کیا حال ہے ان کا۔اب کیا کہتی ہیں؟ اور مجھے نکالو تو معصوم حالت میں نکالو۔دیکھیں کتنا عجیب دلچسپ اور گہرا مضمون ہے۔فرمایا۔میں الزام کی حالت میں قید ہوا ہوں میں الزام کی حالت میں کیسے باہر آجاؤں۔یہ الزام تو مجھے پسند نہیں ہے۔اس کی خاطر تو ساری تکلیفیں برداشت کی تھیں۔اس لئے میں جب تک معصوم ہو کر نہیں نکالا جاتا مجھے ابھی بھی آزادی نہیں چاہیے حالانکہ بادشاہ مہربان ہو چکا ہے۔اور پھر جب بادشاہ نے ان سے پتہ کروایا تو انہوں نے کہا وہ تو بالکل معصوم ہے۔فرشتہ ہے۔اس کا کوئی قصور نہیں۔ہم نے شرارت کی تھی۔ہم نے فتنہ پیدا کیا تھا۔اس کے بعد وہ یہ کہتے ہیں میں اپنے نفس کو اب بھی بری نہیں کرتا۔إنَّ النَّفْسُ لا مادة بالسوء کہ انسان کا نفس تو گناہوں کی تعلیم دینے والا ہے۔اللہ ہی کا فضل تھا جو میں بچ گیا ہوں۔پس دیکھیں کہ قرآنی دعائیں جو گہرے مضامین سمیٹے ہوئے ہیں جب آپ ان میں غوطہ مارتے ہیں۔ان میں اتر کر ان دعاؤں کو اور ان کی مقبولیت کے حالات کو دیکھتے ہیں