ذوق عبادت اور آداب دُعا — Page 225
225 بندے جب خدا سے انعام مانگتے ہیں تو قرب الہی مانگتے ہیں انبیاء سے کوئی چیز مانگتے ہیں تو ان کا قرب مانگتے ہیں۔فرعون نے معلوم ہوتا ہے اس میں سیکی محسوس کی۔اس نے کہا اچھا یہ انعام تو میں دوں گاہی اور تمہیں مقرب بھی بنا لوں گا حالانکہ مقرب بننے کی کوئی التجا ہی انہوں نے نہیں کی تھی۔اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ ان کے دل میں فرعون کی کوئی محبت نہیں تھی۔فرعون کی کوئی عظمت نہیں تھی اور غالبا " یہی وجہ ہے کہ وہ پھر ہدایت یافتہ بھی ہو گئے۔اگر فرعون یا اس کے دین سے گہری محبت ہوتی اور اس کی عظمت دلوں میں بیٹھی ہوتی تو شاید اتنی آسانی سے ہدایت نہ پاتے۔بہر حال جب انہوں نے خدا تعالی کا نشان دیکھا اور حضرت موسیٰ علیہ الصلوۃ والسلام کو ان کے شعبدوں پر ایک عظیم الشان فتح عطا ہوئی تو فرعون کی طرف متوجہ ہوئے بغیر وہ ایمان لے آئے اور اسی وقت انہوں نے یہ دعا کی ربنا افرغ عَلَيْنَا صَبْرًا وَ تَوَقَنَا تمشيومين (سورة الاعراف : ۲۷) کہ اے خدا! اے ہمارے رب! ہم پر میر نازل فرما - وتوفنا مسلمين اور ہمیں مسلمین میں وفات دینا۔اس دعا کی وجہ یہ بنی کہ ان کے ایمان پر فرعون بہت بگڑا اور ان کو بہت دھمکیاں دیں اور یہ کہا کہ تم میری اجازت کے بغیر کس طرح ایمان لے آئے ہو۔اس پر انہوں نے کہا کہ اجازت کا کیا سوال ہے۔ہم نے سچائی دیکھی اور ایمان لے آئے۔اس پر فرعون نے کہا اچھا! اگر یہ بات ہے تو میں تمہیں اس قدر درد ناک عذاب دوں گا کہ ایک طرف سے تمہارے بازو کاٹوں گا اور دوسری طرف سے ٹانگیں کاٹوں گا اور تمہیں ہمیشہ کے لئے ذلیل و رسوا کر کے اور بیکار کر کے پھنکوا دوں گا اور دنیا میں جو تکلیف دی جا سکتی ہے وہ تمہیں دوں گا۔اس پر انہوں نے فرعون سے کہا۔فائض ما انت قماش جو کچھ تو دنیا میں فیصلے کر سکتا ہے کر گزر۔جو عذاب دے سکتا ہے دے۔ہم تو سچائی کو دیکھ کر ایمان لے آئے ہیں اور ان مشکلی حالات کو پیش نظر رکھتے ہوئے جو ان کو نظر آرہے تھے انہوں نے یہ دعا کی۔رَبَّنَا افْرِغْ عَلَيْنَا صَبْرًا وَ تَوَفَّنَا مسلمین کہ اے خدا ! ہم پر مبر نازل فرما۔تیری طرف سے جب تک صبر کی توفیق نہ ملے ہم اپنی کوشش سے صبر نہیں کر سکیں گے اور اگر ہمیں مارنا ہی ہے تو مسلمان ہونے