ذوق عبادت اور آداب دُعا

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 226 of 528

ذوق عبادت اور آداب دُعا — Page 226

226 کی حالت میں مارنا۔موت کے ڈر سے کافر ہونے کی حالت میں زندہ نہ رکھنا۔حضرت موسیٰ علیہ السلام کی دعا حضرت ہارون کو جب حضرت موسیٰ نے جانشین بنایا اور ان کی قوم کا اکثر حصہ بگڑ گیا اور بچھڑا بنا لیا تو حضرت موسیٰ واپس لوٹے۔یہ واقعہ آپ نے قرآن کریم میں با رہا پڑھا ہوگا کہ کس قدر غضب کی حالت میں تھے اور یہاں تک کہ حضرت ہارون کو ذمہ دار گردانا اور ان سے سختی سے جواب طلبی کی۔اس پر حضرت ہارون نے اپنے بزرگ تر بھائی کو سمجھایا کہ میں تو بالکل بے قصور ہوں۔مجھے میں تو طاقت ہی نہیں تھی کہ ان جاہلوں کو روک سکتا۔میں نے کوشش کی مگر انہوں نے اپنی ضد کی اور توحید سے دوبارہ شرک کی طرف مائل ہو گئے تب حضرت موسیٰ نے یہ دعا کی رب اغفرلين ولا خي و ادْخِلْنَا فِي رَحْمَتِكَ وَالْتَ اَرْحَمُ الرَّحِمِينَ۔لاعراف : ۱۵۲) اے میرے رب! مجھے بھی بخش دے اور میرے بھائی کو بھی بخش دے۔وادخلنا في رحمتك اور ہم دونوں کو اپنی رحمت میں داخل فرما۔حضرت موسیٰ کی اس دعا میں اور پہلی دعا میں یہ فرق ہے کہ یہاں اپنا رب کہہ کر دعا کی یہ درخواست پیش کی ہے۔پہلے ہم دونوں کے رب یا ہمارے رب کے طور پر خدا سے التجا مانگی تھی۔یہاں چونکہ حضرت موسی خدا کی طرف سے لوٹے تھے یعنی خدا کے ساتھ خاص لقاء کے بعد لوٹے تھے اور حضرت ہارون کا معالمہ وہاں مشکوک بنا ہوا تھا کہ آپ کسی حد تک ذمہ دار ہیں کس حد تک نہیں تو آپ نے اپنے حوالے سے دعا مانگی کہ مجھے تو تو جانتا ہے کہ میں تیری طرف سے لوٹ کے آیا ہوں میں کلیتہ بری الذمہ ہوں۔اس لئے اے میرے رب! مجھے بھی بخش دے اور میرے بھائی کو بھی بخش دے اور ہم سے ان لوگوں سے الگ معاملہ فرما دانتَ أَرْحَمُ الرَّحِمِينَ - توسب رحم کرنے والوں سے زیادہ رحم کرنے والا ہے۔حضرت موسیٰ کی دعائیں اپنا ایک خاص انداز رکھتی ہیں۔جب آخر حضرت موسیٰ کا غصہ ٹھنڈا ہو گیا اور اپنی قوم کے ۷۰ آدمیوں کو ایک مقررہ مقام پر جو خدا نے مقرر فرمایا تھا ساتھ لے جانے لگے تو وہاں طبعی طور پر زلزلہ آگیا اور وہ زلزلہ اتنا شدید تھا کہ