ذوق عبادت اور آداب دُعا — Page 224
224 حضرت موسیٰ علیہ السلام کے زمانے میں بھی فرعون نے اس طرح موسیٰ کی قوم کو ملک بدر کیا تھا کہ جسمانی طور پر باہر نکلنے نہیں دیتا تھا اور شہری حقوق سارے چھین لئے تھے۔پس یہ ملک بدر کرنے کی ذلیل ترین صورت ہے کہ نجات حاصل کرنے کے لئے جو باہر بھاگنا چاہے اس کی راہ میں روکیں ڈالو اس کو سزائیں دو۔قید کرد کہ تم نکلنے کی کوشش کیوں کرتے ہو اور ملک میں رکھتے ہوئے اس کے سارے حقوق چھین لو۔پس یہ جو فرعونی دور ہے اس کا ملک بدر کرنا سب سے زیادہ خوف ناک اور تکلیف دہ ہے۔اللہ تعالٰی ہمیں اور اپنے تمام مظلوم بندوں کو اس قسم کے ظلموں سے نجات بخشے۔حضرت موسیٰ کے مقابلہ پر آنے والے جادو گروں کی ہدایت پانے کے بعد کی دعا اس وقت جب حضرت موسیٰ علیہ الصلوۃ والسلام کی قوم کو فرعون نے نکلنے نہ دیا اور حضرت موسیٰ نے اصرار کیا کہ میری قوم کو نکلنے دو ان ظلموں سے نجات بخشو۔اگر تم سمجھتے ہو کہ یہ اس ملک کے برابر کے شہری نہیں تو ان کو ملک چھوڑنے دو تو فرعون نے کہا میں یہ بھی نہیں کروں گا۔جو زور لگا سکتے ہو لگاؤ اس پر بالآخر مقابلہ روحانی مقابلے تک پہنچا اور حضرت موسیٰ علیہ الصلوۃ والسلام کو فرعون نے کہا کہ تم جو الہی نشانات دکھاتے پھرتے ہو میرے نزدیک تو یہ محض دھوکہ اور جادو گری ہے اس لئے کیوں نہ تمہارا تمہارے جیسوں سے مقابلہ کرا دیا جائے اور دنیا دیکھ لے کہ اصل حقیقت کیا ہے۔چنانچہ فرعون نے یہ منادی کرائی کہ جو اس ملک کے چوٹی کے جادوگر ہیں وہ اکٹھے ہو جائیں اور لوگ بھی فلاں دن جو کہ خوشیاں منانے کا ایک دن تھا اکٹھے ہوں کیونکہ اس دن ایک جادوگر کا دوسرے جادو گروں سے مقابلہ ہوتا ہے۔اس کی ساری تفاصیل قرآن میں موجود ہیں مختصراً یہ بتاتا ہوں کہ جادو گر جب حضرت موسیٰ کے مقابلے کے لئے حاضر ہوئے تو فرعون نے ان سے مخاطب ہو کے کہا کہ بتاؤ کیا چاہتے ہو؟ اس کے مقابل پر ہم سے کیا لو گے ؟ تو انہوں نے فرعون کا قرب نہیں مانگا۔انہوں نے فرعون سے دنیاوی انعام مانگے۔یہ بڑی دلچسپ بات ہے۔خدا کے نیک -