ذوق عبادت اور آداب دُعا — Page 218
218۔اولین اور آخرین کے لئے عید ہو۔دار دقنا اور ہمیں رزق دے۔پس رزق اور ہوا اور وہ مائدہ اور ہوا اور اس مائدہ کے علاوہ رزق بھی مانگا ہے لیکن دعا کی درخواست کرنے والے جو لوگ تھے ان کے ذہن میں روحانی مائدہ نہیں تھا بلکہ دنیاوی مائدہ تھا۔اللہ تعالٰی نے اس دعا کو قبول کرتے ہوئے متوجہ کیا کہ اصل روحانی مائدہ ہے۔اگر تم نے روحانی مائدہ سے فائدہ نہ اٹھایا اور دنیاوی رزق میں پڑگئے تو لوگوں کے لئے ٹھوکر کا موجب بنو گے۔دنیا تمہاری مادی ترقی دیکھے گی اور یہ سمجھے گی کہ حضرت عیسی نے جو دعا مانگی تھی اس کے نتیجے میں تمہیں سب کچھ حاصل ہو گیا اور تمہاری پیروی کو فخر سمجھے گی اور اس کو ذریعہ نجات سمجھے گی دنیا یہ سمجھے گی کہ ایسی قومیں جن پر خدا نے اتنی نعمتیں کی ہوں کہ ساری دنیا سے زیادہ ان پر رزق فراخ کر دیا ہو۔وہ تمام دنیا کی دولتوں کے مالک بن بیٹھے ہوں وہ اچھے لوگ ہیں تبھی تو خدا تعالی ان کو عطا کر رہا ہے تو یہ فرمایا کہ ضروری نہیں ہے کہ یہ ظاہری رزق پانے کے بعد بھی خدا کی نظر میں وہ ایچھے لکھے جائیں۔تیری دعا کی خاطر ہم ان کو رزق تو دے دیں گے لیکن اگر روحانی مائدہ کے بغیر انہوں نے رزق پر قناعت کی اور رزق کے عاشق ہو گئے اور اسی کے ساتھ دل لگا بیٹھے تو چونکہ دنیا کے لئے ٹھوکر کا ذریعہ بن سکتے ہیں، اس لئے ہم پر فرض ہو گا کہ ہم آخر ان کو ہلاک کر دیں تاکہ دنیا یہ سمجھ لے کہ محض ظاہری رزق عطا کرنا انعام نہیں ہے۔انعام اور چیز ہے اور ظاہری رزق میں فراخی دینا اور چیز ہے۔یہ وجہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے جتنا عظیم الشان رزق یعنی مادی رزق بھی عطا کرنے کا وعدہ فرمایا اتنی ہی بڑی تنبیه کردی کہ اس رزق کا حق ادا کرنا ورنہ تم صفحہ ہستی سے مٹا دیئے جاؤ گے اور ایک عبرت ناک عذاب کے ذریعے مٹائے جاؤ گے۔یہ دعا حضرت عیسی علیہ الصلوۃ والسلام کی دعا تھی جو اولین کے علاوہ آخرین کے متعلق خصوصیت سے مانگی گئی تھی۔آخرین میں حضرت عیسی علیہ الصلوۃ والسلام کے ماننے والے آج کے دور کے عیسائی ہیں اور آپ دیکھ لیجئے کہ خدا نے کس شان سے اس دعا کے ظاہر کو پورا فرمایا ہوا ہے۔اتنا رزق وسیع کیا ہے کہ باقی ساری دنیا ان کے مقابل پر بھکاری بنی ہوئی ہے، کچھ بھی ان کے پہلے نہیں۔ساری دنیا کے یہ رازق بنے ہوئے ہیں جس کو چاہیں اس کو رزق دیتے ہیں جس