ذوق عبادت اور آداب دُعا — Page 217
217 ہم پر مائدہ اتارے کیونکہ ہم تو اب کمائی جو گے " رہے نہیں۔ہم تو خالصتہ " اس کے دین کے لئے وقف ہو گئے ہیں، اس لئے ہمارے رزق کا وہی انتظام کرے اور آسمان سے مائدہ اتارے۔چنانچہ حضرت عیسی علیہ الصلوۃ والسلام نے جو دعا کی وہ اولین کے لئے بھی کی اور آخرین کے لئے بھی کی۔وہ دعا یہ ہے قَالَ عِيسَى ابْنُ مَرْيَمَ اللهم ربنا انزل علينا مايدا من السَّمَاء تَكُونُ لَنَا عِيد الأَولِنَا وَاخِرِنَا (سورة المائده : ۱۵) که اے ہمارے خدا! ہم پر آسمان سے نعمتوں کا دستر خوان نازل فرما۔نعمتیں نازل فرما۔ایسی نعمتیں جو ہمارے اولین کے لئے بھی عید ہو جائیں اور آخرین کے لئے بھی عید ہو جائیں یعنی دونوں کے لئے خوشیوں کے سامان لائیں۔وايت منك اور وہ تیری طرف سے ایک نشان بن جائے۔وَارْزُقْنَا وَ انْتَ خَيْرُ الرَّزِقِينَ تو ہمارے رزق کا انتظام فرما اور تو بہتر رزق عطا کرنے والا ہے۔اس دعا کے ساتھ یہ احتیاط ضروری ہے کہ اس دعا کے بعد خدا تعالٰی نے جو تنبیہ فرمائی ہے اس کو بھی پیش نظر رکھا جائے۔یہ دعا سننے کے بعد اللہ تعالٰی نے فرمایا کہ میں تیری یہ دعا قبول کروں گا لیکن اس شرط کے ساتھ کہ ان لوگوں نے اگر ناشکری کی تو ان کو عذاب بھی ایسا دوں گا جو دنیا میں کبھی کسی کو نہ دیا گیا ہو اور دنیا کے لئے عبرت کا نشان بنا دوں گا۔اب اس شرط کے ساتھ رزق عطا کرنا یہ عجیب سا لگتا ہے۔آخر اس کا کیا مطلب ہے؟ غور طلب بات ہے کہ ایک طرف اللہ تعالی رحیم و کریم ، رزاق، دیالو بے انتہاء سخی اور رحم کرنے والا اور اپنے نبی کی یہ دعا سکتا ہے کہ ہاں! میں ان کے لئے آسمان سے رزق اتاروں گا اور ساتھ ہی اتنی بڑی تنبیہہ کر دیتا ہے کہ اگر یہ ناشکرے ہوئے تو ایسا عذاب دوں گا کہ دنیا میں کبھی کسی کو نہ دیا گیا ہو اس میں کیا حکمت ہے؟ اس کو جب آپ سمجھ لیں گے تو پھر اس دعا کو متوازن طور پر خدا کے حضور عرض کرنے کی توفیق پائیں گے ورنہ اس کا غلط مطلب سمجھ کر آپ دعا مانگتے رہیں گے۔حضرت عیسی علیہ الصلواۃ والسلام نے مائدہ سے دراصل روحانی مائدہ مراد لیا تھا اور رزق کی دعا بھی مانگی ہے لیکن ضمنی طور پر چنانچہ آپ دوبارہ اس دعا کو پڑھیں۔فرمایا۔ہمارے لئے آسمان سے مائدہ اتار جو ہمارے