ذوق عبادت اور آداب دُعا — Page 219
219 سے چاہیں اس سے چھین لیتے ہیں لیکن چونکہ اس شرط کو پورا نہیں کیا جو روحانی مائدہ سے تعلق رکھتی تھی اس لئے دنیا کے لئے ٹھوکر کا موجب بھی بن گئے ہیں۔بہت سے غریب ممالک مسلمان بھی اور ہندو بھی اور بد حسٹ بھی اس لئے عیسائی ہو رہے ہیں کہ رہ کہتے ہیں دیکھو خدا نے ان سے حسن سلوک فرمایا۔ان پر فضل فرمائے۔یہ ٹھیک ہی ہوں گے تو خدا تعالی ایسا کہ رہا ہے۔پس قرآن کریم کی دوسری آیت میں جو تنبیہہ مضمر تھی وہ تنبیہ ہم اپنے سامنے ظاہرا " پوری ہوتی ہوئی دیکھ رہے ہیں۔پس اس لئے یہ لازم ہے کہ یہ قومیں اگر اصلاح نہیں کریں گی اور خدا تعالی کے روحانی رزق کی طرف متوجہ نہیں ہوں گی اور دین کی طرف بچے دین کی طرف واپس نہیں لوٹیں گی تو یہ عبرت کا نشان بن جائیں گی اور ان کو صفحہ ہستی سے مٹا دیا جائے گا۔انگلستان کے دل میں لنڈن میں کھڑے ہو کر میں یہ بتا رہا ہوں کہ یہ 100 فیصد سچی باتیں ہیں۔کوئی دنیا کی طاقت ان کو ٹال نہیں سکتی۔دو ہزار سال پہلے کوئی یہ تصور بھی نہیں کر سکتا تھا کہ اس طرح عیسی کے ماننے والوں کو اتنا بڑا رزق عطا کیا جائے گا اور اتنا وسیع دستر خوان ان کے لئے اتارا جائے گا۔چودہ سو سال پہلے جب قرآن کریم میں یہ آیت نازل ہوئی ہے کوئی وہم و گمان بھی نہیں کر سکتا تھا کہ عیسائی آخر دنیا میں کس طرح حاوی ہو جائیں گے اور رزق کے تمام ذرائع پر کس طرح وہ قابض ہو کر بیٹھ جائیں گے کیونکہ اس آیت میں موجود ہے کہ جب عیسی نے آخر ان کے لئے یہ دعا مانگی تو خدا نے فرمایا ہاں ! میں قبول کروں گا لیکن جو لوگ دنیاوی رزق پر راضی ہو جائیں گے اور روحانیت کی طرف سے آنکھ پھیر لیں گے ان کو پھر بھی عذاب کا نشانہ بناؤں گا۔عذاب کا وعدہ بھی لازما پورا ہوگا پس یہ جو دوسرا حصہ ہے اس نے لازما پورا ہوتا ہے صرف ایک شرط ہے کہ یہ قومیں تو بہ کریں اور ان آخرین میں شامل ہو جائیں جو محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وعلیٰ آلہ وسلم کے آخرین ہیں کیونکہ ایک وہ آخرین ہیں جن کا عیسی علیہ الصلوۃ والسلام نے ذکر کیا ہے اور ان کے متعلق یہ مضمون بیان ہوا جو اس آیت میں ہے۔ایک وہ آخرین ہیں جن کا محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وعلیٰ آلہ وسلم نے ذکر فرمایا ہے اور وہ ذکر بالکل مختلف