ذوق عبادت اور آداب دُعا — Page 193
193 کو اس زمانے میں تو گھوڑے اور خچر وغیرہ ہوا کرتے تھے تو ان کو روکنے کے لئے ہوتی تھی کہ اپنا ٹیکس دیگر جاؤ تو یہ سارے مفاہیم ہمیں بتاتے ہیں کہ اس دعا کا یہ مطلب نہیں ہے کہ ہم پر کوئی ایسی شریعت نہ نازل فرمانا۔بوجھ سے مراد بعض لوگ سمجھتے ہیں کہ خدا کی طرف سے پابندیاں ہیں، ہر گز یہ مراد نہیں مراد یہ ہے کہ ہم پر ایسی پابندیاں نہ لگانا جن پابندیوں کو برداشت نہ کر کے پرانے لوگوں کی کمریں ٹوٹ گئیں اور وہ منہدم ہو گئے اور ایسی پابندیاں نہ لگانا جو تو نے تو کم لگائی تھیں لیکن رفتہ رفتہ لوگوں نے بڑھانی شروع کر دیں اور سیدھے سادے دین کو کنجلک بنا دیا۔چنانچہ وہ جو قرآن کریم میں دوسری جگہ آتا ہے کہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وعلی آلہ و سلم لوگوں سے ان کے امر دور فرماتا ہے۔جن بوجھوں میں وہ مبتلا ہوئے ہیں، جو زائد رسم و رواج ان کے گلوں کے طوق بن گئے ہیں وہ ان سے ان کو رہائی دلاتا ہے تو یہ وہ مضمون ہے کہ ہمیں ایسے لوگوں کے رستے پر نہ چلانا جن کی تعلیمات ان کے لئے رفتہ رفتہ اصربن گئیں۔اس میں اضافے ہونے شروع ہو گئے، رسم و رواج پیدا ہو گئے۔ایسی مشکل بنا دی گئیں کہ پھر ان پر عمل نہیں ہو سکتا تھا اور پھر ایسے بھی لوگ تھے جن کی تعلیمات رفتہ رفتہ ٹیکس کی وصولی کی طرح بو جھل اور قابل نفرت بن گئیں۔جب ان سے ان تعلیمات پر عمل کرنے کا مطالبہ کیا جاتا تھا تو سننے والے یہ سمجھتے تھے کہ یہ کیا مصیبت ہے۔یہ ویسی ہی کیفیت ہے جیسے گزشتہ کچھ عرصہ پہلے ضیاء الحق صاحب نے نماز فرض کر دی تھی۔ایک تو خدا نے فرض کر رکھی تھی ۱۴۰۰۰ سال پہلے سے ایک ضیاء صاحب نے اس کے اوپر پھر فرض فرما دی اور اس وقت کی جو کیفیت لوگ مجھے لکھا کرتے تھے وہ بالکل وہی تھی جو میں بیان کر رہا ہوں کہ لوگ سمجھتے تھے کہ یہ تو ٹیکس پڑ گیا ہے۔اس کی ادائیگی سے جس طرح ہو سکے بھا گو۔جو خدا کی فرض کردہ نمازیں پہلے پڑھتے تھے وہ تو اسی طرح پڑھتے رہے ان کو تو کوئی فرق نہیں پڑا لیکن ایک بڑی تعداد وہ تھی جو صر" سمجھ کر نمازوں کو پڑھتے تھے اور ان کا رجحان یہ تھا کہ گویا ان پر ٹیکس عائد کر دیا گیا ہے تو دیکھیں کتنی اچھی دعا سکھا دی۔فرمایا : اے خدا تیری تعلیم کو تو ہم قبول کریں گے لیکن ہم تجھ سے کچھ گزار شمات کرتے ہیں۔ہم ہر چیز پر ایمان لے آئے۔یہ عہد کر بیٹھے ہیں جو سنیں گے