ذوق عبادت اور آداب دُعا — Page 192
192 تو میں کہوں گا کہ تمہارے حساب میں لکھ لی جائے۔اور فرشتے تمہارے حساب میں لکھ لیا کریں گے لیکن بدی کے متعلق احتیاط کا حکم دوں گا کہ دیکھنا اس کی نیت تھی کہ نہیں۔ارادہ تھا کہ نہیں۔چنانچہ حضرت آدم علیہ السلام کے ذکر میں فرمایا۔ولم نجد له عزما (له : (۱۲) ہم نے جو اس سے مغفرت کا سلوک فرمایا تو تم تجد له علما ہم نے خوب ٹول کے دیکھا، اس کی نیت میں عزم نہیں پایا جاتا تھا۔ٹھو کر کھائی تھی۔غفلت ہو گئی تھی۔پس غفرانك كا جواب بھی ہمیں مل گیا۔ایک دعا جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے صحابہ گریہ وزاری سے کرتے تھے پھر وہ دعا بتائی اور تفصیل کے ساتھ اس دعا کا ذکر فرمایا جو حضرت محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم اور آپ کے شاگرڈ آپ کے کلام آپ کے صحابہ ہمیشہ خدا کے حضور گریہ وزاری سے کیا کرتے تھے۔رَبَّنَا لَا تُؤَاخِذْنَا إِن نَّسِينَا أَوْ الخطانا اے خدا! لا تواخذنا ہرگز ہمارا مواخذہ نہ فرمانا۔إن نسينا أو أخطأنا اگر ہم سے بھول چوک ہو جائے اور غلطی کر دیں تو اس کا تو کوئی کھاتا ہی نہ رکھنا۔اسے تو شروع سے ہی صاف کر دینا کہ ٹھیک ہے، یہ کسی شمار میں نہیں ہوگی۔پھر رَبِّنَا وَلا تَعْمِلَ عَلَيْنَا إِصْرًا كَمَا حَمَلْتَهُ عَلَى الَّذِينَ مِن قَبْلِنَا اور اے خدا! جہاں تک اس اخر کا تعلق ہے جو تو نے پہلے لوگوں پر ڈالا تھا وہ ہم پر ڈالتا ہی نہ۔اصر" اور "حمل " دو مضمون ہیں جو اس آیت میں بیان ہوئے ہیں۔اصر“ سے متعلق لغوی تحقیق یہ ہے۔اَمَرَ الشَّشی کسی چیز کو توڑا مروڑا روکا۔کوئی چیز اتنا بڑھ گئی مثلاً درخت کی شاخیں کہ آپس میں منجلیں پڑگئیں اور ایک دوسرے کے ساتھ مل کر ایک دوسرے کو خراب کرنے لگ گئیں۔انتَصَرَ الْقَوم لوگ زیادہ ہو گئے۔اصر اس رسی کو بھی کہتے ہیں جو سڑک پر ٹول وصول کرنے کے لئے لگائی جاتی تھی۔آجکل بھی گیٹ (Gate) لگتے ہیں۔یعنی وہ رسی جو گاڑیوں کو موٹروں کو گدھے گاڑیوں