ذوق عبادت اور آداب دُعا

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 194 of 528

ذوق عبادت اور آداب دُعا — Page 194

194 ہے : وقف اس کی اطاعت کریں گے لیکن اب ہمارے ساتھ ذرا ایک Code of Contact ملے ہو جائے۔ایک ایسا طریق کار واضح ہو جائے جس پر ہم سے تیرا معاملہ ہوگا۔ایک یہ کہ خطا تو شمار میں ہی نہیں آئے گی۔بھول چوک معاف۔پرانے لوگوں کی غلطیاں دوہرانے کی تو ہمیں توفیق ہی نہیں بخشے گا۔ہم تیری تعلیم کو ہر گز اپنے لئے بوجھ نہیں بننے دیں گے اور نہ تیری تعلیم کو بوجھ شمار کریں گے اور ٹیکس شمار کریں گے۔پھر اس کے بعد کیا ربنا ولا تُحَمِّلْنَا مَا لَا طَاقَةَ لَنَابم اس کے باوجود ہمیں پتہ نہیں کہ پھر بھی کیا کیا ہونے والا ہے۔جہاں تک گزشتہ تاریخ کے سبق ہیں وہ تو ہم نے حاصل کئے لیکن اپنی کمزوریوں سے ہم پھر بھی واقف نہیں ہیں۔وَلَا تُحَمِّلْنَا مَا لا طاقة لنا به تو نے وعدہ فرمایا ہے۔لا يُكَلِّفُ اللَّهُ نَفْسًا لا وُسْعَهَا پس اس وعدے کو یاد دلاتے ہیں اور پھر یہ تاکیدا " عرض ہے کہ ہم میں جتنی طاقت ہے اس سے زیادہ ہم پر بوجھ نہیں ڈالنا۔طاقت دیکھ کر بوجھ ڈالنا اور اس کے بعد پھر بعد میں کیا سلوک ہو۔وَاعْفُ عَنَّا وَاغْفِرُ لَنَا دو ارحمنا اے خدا! عفو کا سلوک فرمانا۔پھر بھی گناہ ہوں گے تو دیکھنا ہی نہ گویا گناہ ایک طرف ہو رہے ہیں اور تیری نظریں دوسری طرف ہیں۔واغفر لنا اور جو گناہ تیری نظر کے سامنے آجائیں ویسے تو ہر چیز پر خدا کی نظر ہے لیکن ایک اسلوب بیان ہے۔جس طرح بعض لوگ ظلم کا سلوک کرنے والے مغفرت کا سلوک کرنے والے عفو سے آغاز کرتے ہیں اور کوشش کرتے رہتے ہیں کہ کوئی برائی نظر کے سامنے ہی نہ آئے۔برائی کو اس وقت دیکھتے ہیں جب پکڑنے کا ارادہ کرتے ہیں۔حضرت مصلح موعود کا بھی یہی طریق تھا۔مجھے یاد ہے بچپن میں آپ جب گھروں میں آیا کرتے تھے تو ہم بچپن کی کئی قسم کی بے ہودہ حرکتیں کیا کرتے تھے تو آپ اس طرح غفلت کی نظر سے دیکھتے ہوئے گزرتے تھے جیسے پتہ ہی نہیں لگا اور اس وقت دیکھتے تھے جب پکڑنے کا ارادہ ہو۔جب سمجھیں کہ اب معاملہ کچھ ہاتھ سے بڑھتا چلا گیا ہے۔لیکن خدا سے یہ دعا نہیں ہے کہ ہمیں اس وقت گناہوں میں دیکھنا جب پکڑنے کا ارادہ ہو۔فرمایا جب دیکھنا تو بخشش کے ارادے سے دیکھنا۔جب پکڑے جائیں، بات کھل جائے تو وَاغْفِرْ لَنَا وَارْحَمْنَا اور رحم