ذوق عبادت اور آداب دُعا

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 16 of 528

ذوق عبادت اور آداب دُعا — Page 16

16 حمد صرف شکر کے معنوں میں کہتے ہیں، ان کو پتہ نہیں ہوتا کہ حمد ہے کیا ؟ تو کہتے ہیں کہ اب تو ہمارا نقصان ہو گیا۔اب تو ہم صدمے کی حالت میں ہیں یا خوف کی حالت میں ہیں، ہم کیسے حمد کہیں لیکن وہی وقت حمد کہنے کا ہوتا ہے کیونکہ ایک محمود چیز ان کے ہاتھوں سے چلی گئی ہوتی ہے۔ایک ایسی چیز ان کی روح سے کھوئی جاتی ہے جس کے ساتھ ان کی کوئی حمد وابستہ ہے اور وہ وقت ہوتا ہے یہ یاد کرنے کا کہ الْحَمْدُ يتو رب العلمین : حمد تو اصل میں خدا کی ہے۔خدا نے یہ حمد اس کو تھوڑی سی بخشی تھی عارضی طور پر تو وہ قابل ستائش تھا لیکن جس نے حمد عطا کی تھی وہ میرا ہے اور وہ ہمیشہ میرے ساتھ رہنے والا ہے۔وہ کبھی مجھے چھوڑنے والا نہیں۔پس نقصان سے کچھ صدمہ تو ضرور ہوتا ہے لیکن اگر اس صدمے کو انسان عارضی سمجھ لے یعنی حقیقت میں عرفان کی رو سے تو وہ صدمہ عارضی بن جاتا ہے اور اگر اس کی حمد ہمیشہ کے لئے اس سے وابستہ ہو چکی ہو اور خدا کے علاوہ ایک باطل بت کے طور پر ایک شخص سے پیار کرنے لگے تو اس کا نقصان بھی ہمیشہ رہے گا اور اس سے پتہ چلے گا کہ اس نے خدا کے علاوہ کسی اور شخص سے دائمی حمد منسوب کر دی تھی۔پس دیکھیں ایسے صدمے کے بعد اس کی پہلی نماز کی پہلی رکعت بے اختیار اس کی توجہ اس طرف مبذول کرا دیتی ہے کہ الْحَمدُ لله رب العلمین روز تمہیں یہ سبق دیا گیا۔روز تم نے غور سے پڑھا۔جانتے ہو اچھا بھلا کہ خدا کے سوا کوئی حمد نہیں تو اگر یہ چیز ضائع ہوئی تو خدا نے حمد عطا کی تھی۔اس لئے اگر کوئی حمد عطا کرنے والا اپنی چیز واپس لیتا ہے تو واپس دیتے وقت بھی تو شکریہ ادا کیا جاتا ہے۔شکوے کا وقت تو نہیں ہوا کرتا۔آپ نے کسی کو کوئی چیز استعمال کے لئے دی ہو اور جب آپ واپس لیں تو وہ آگے سے گالیاں دینے لگ جائے کہ یہ چیز ابھی تم نے دی تھی، اب واپس لے کے جا رہے ہو تو آپ کا اس کے متعلق کیا تاثر ہوگا۔لیکن اگر وہ شریف النفس ہے تو واپس دیتے وقت شکریہ ادا کرے گا لیکن یہ شکریہ تبھی ادا ہو سکتا ہے اگر ملت توی الدین پر نظر ہو۔جس کو انسان مالک کل سمجھتا ہے اس کا شکریہ ادا کیا کرتا ہے اور اس کے واپس لینے پر کوئی ناراضگی پیدا نہیں ہو سکتی۔جتنی دیر اس نے موقع دیا غنیمت ہے، اس کا احسان ہے تو ملت