ذوق عبادت اور آداب دُعا

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 17 of 528

ذوق عبادت اور آداب دُعا — Page 17

17 يزه الدين نے اس حمد کا خدا تعالٰی کی صفات کے ساتھ تعلق خوب کھول کر بیان کر دیا اور یہ مطلع کر دیا کہ اگر خدا کو ملک یوم الدین سمجھو گے تو اس کے ساتھ وابستہ ہر حمد ہمیشہ حمد ہی کی حالت میں دکھائی دے گی۔اگر اس کو مالک یوم الدین نہیں سمجھو گے تو بعض موقعوں پر حمد کے اہل نہیں رہو گے۔جب کسی پہلو سے تمہیں ابتلاء پیش آئے گا کوئی چیز تم سے واپس لی جائے گی تو تم آپ جو مالک بن بیٹھے ہو گے ہمیشہ کے لئے اپنا بنا چکے ہو گے ہمیشہ کے لئے اس کے ہو چکے ہو گے تو مالک یوم الدین پھر کہاں رہا۔خدا تو اس کی ملکیت سے پھر الگ ہو گیا۔پس سورۂ فاتحہ میں انسانی سوچوں کے جنتے بھی پہلو ہیں ان تمام پہلوؤں کی سیرابی کی گئی ہے۔انسان کی ہر تختگی کو دور فرمایا گیا ہے۔ممکن نہیں ہے کہ کوئی انسان سورۂ فاتحہ پر سے غور کرتے ہوئے گزرے اور کسی قسم کی تشنگی باقی رہے یا اکتاہٹ محسوس ہو۔پھر حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے جو یہ فرمایا کہ جب یہ کہو کہ اِيَّاكَ نَسْتَعِين مو بھی تجھ سے ہی مانگتے ہیں تو اللہ تعالیٰ مدد فرمائے گا اور آہستہ آہستہ تمہاری عبادت صحیح مقام پر کھڑی اور قائم ہو جائے گی۔پس یہ مضمون جیسا کہ میں نے بیان کیا تھا بہت وسیع ہے اور ایک خطبے میں ناممکن ہے کہ اس کا پورا حق ادا کیا جاسکے۔میں نے کوشش کی ہے کہ مختصراً آپ کو سمجھاؤں کہ عرفان سے نماز میں لذت پیدا ہوتی ہے اور اس کے لئے محنت کرنی پڑے گی۔بات سمجھنے کے باوجود اچانک آپ کی نماز زندہ نہیں ہو سکتی۔جن دانوں میں رس نہ رہا ہو اگر وہ ابھی زندہ اور درخت سے تعلق رکھتے ہیں تو معا علاج کے بعد ان میں رس تو نہیں بھر جایا کرتا، وقت لگتا ہے اور محنت کرنی پڑتی ہے۔پس اللہ تعالی نے انسان کو مخاطب کرتے ہوئے فرمایا کہ بايُّهَا الإِنسَانُ إِنَّكَ كَادِ إِلَى رَيْكَ كَدْحًا فَمُلَقِيهِ (سورة الانشقاق : آیت) کہ اے انسان! تو خدا کی طرف محنت کر رہا ہے یعنی وہ انسان مخاطب ہے جو خدا کو پانے کے لئے محنت کرتا ہے۔کا د پرانی رنک گوگا تجھے بہت محنت کرنی پڑے گی اور بہت محنت کر رہا ہے۔ہم تجھے یہ یقین دلاتے ہیں کہ تیری یہ محنتیں ضائع نہیں جائیں گی۔فعلقته تو ضرور اس رب کو پالے گا جس کی خاطر تو محنت اور جدوجہد کرتا ہے۔تو عبادت کے باہر کے دروازے پر