ذوق عبادت اور آداب دُعا

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 15 of 528

ذوق عبادت اور آداب دُعا — Page 15

15 استعانت کے بھی کوئی خاص معنی نہیں ہوا کرتے۔نہ بھی ملے تو اس کو کوئی فرق نہیں پڑتا اور اس کے مانگنے میں ایک استغناء پایا جاتا ہے ایک عظمت پائی جاتی ہے۔وہ جھک کر نہیں مانگتا۔وہ جانتا ہے کہ خدا نے ہی اس کو دیا ہے۔اگر یہ نہیں دے گا اور خدا نے مجھے دینا ہو گا تو ہزار رستے اس کے دیئے کے ہیں۔ان گنت راہیں ہیں جن سے وہ مجھے عطاء کر سکتا ہے تو عرفان جتنا جتنا بڑھتا چلا جاتا ہے اتنا اتنا نماز میں لذت پیدا ہوتی چلی جاتی ہے اور عرفان بڑھانے کے لئے بہت غیر معمولی علم کی ضرورت نہیں ہے۔ہر انسان کا اپنا علم عرفان پیدا کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔اب کائنات پر غور کرنے کے لئے ایک سائنس دان کا غور بہت وسیع ہو گا۔اگر اسے خدا تعالٰی عرفان کی آنکھیں ہی نہ دے تو بڑے سے بڑے علم کے باوجود اس کو حمد کا مضمون سمجھ نہیں آئے گا لیکن ایک معمولی انسان ایک چرواہا ، ایک گڈریا ایک زمیندار کاشتکار یا ایک مزدور اگر بصیرت کی نظر رکھتا ہو تو وہ اپنے روز مرہ کے کاموں میں بھی خدا کی حمد دیکھ سکتا ہے اور حمد کے ترانے گا سکتا ہے۔خوف اور صدمے کی حالت ہی حمد کا اصل وقت ہے پس علم سے حمد ضرور بڑھتی ہے ، اس میں کوئی شک نہیں لیکن علم کے بغیر بھی عرفان نصیب ہو سکتا ہے اگر انسان خدا تعالیٰ کی جستجو کرے اور اس کے حسن کی تلاش کرے تو کوئی ایک جگہ ایک مقام بھی ایسا نہیں جہاں سے جستجو کرنے والا خدا تعالی کا حسن نہ دیکھ سکے۔اور وہی حسن ہے جو دراصل حمد میں تبدیل ہوتا ہے جس کے بعد انسان بے اختیار کہتا ہے الحمد لله رب العلمين ، پھر روزہ مرہ کے انسان کے تجارب ہیں ، خوشیاں ہیں، غم ہیں ، خوف ہیں ان کے نتیجے میں روزانہ نماز کے یہ سات لفظ جو میں نے بیان کئے ہیں یہ نئے نئے مضامین سے بھرے جا سکتے ہیں۔ایک شخص کا ایک بچہ فوت ہو جاتا ہے، اس کو اور کوئی صدمہ پہنچتا ہے، اب بعض لوگ کہتے ہیں کہ اب ہم کس طرح بچے دل سے حمد کریں۔یہ کہنے والے صرف اس لئے یہ کہتے ہیں کہ ان کے دماغ میں حمد اور شکر ایک ہی مضمون کے دو نام بن چکے ہوتے ہیں اور اکثر لوگ