ذوق عبادت اور آداب دُعا

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 161 of 528

ذوق عبادت اور آداب دُعا — Page 161

161 دوسرے کو آنکھیں مارتے تھے اور ہنتے ہوئے کہتے تھے کہ یہ گمراہ جس نے دیکھتے ہیں دیکھ لو۔یہ بد بخت لوگ ہیں جن کے پاس کوئی ہدایت نہیں۔ایسے ایسے مظالم کا ان کو نشانہ بنایا گیا اور جب ہم قرآن کریم کا مطالعہ کرتے ہیں تو اس مطالعہ میں ساتھ ہی خدا یہ بتاتا ہے کہ میرے یہ پیارے بندے ہیں۔میرے یہ انعام یافتہ لوگ ہیں۔پس جب ہم یہ دعا کرتے ہیں کہ اے خدا! ہمیں انعام یافتہ لوگوں کے راستے پر چلا تو یہ سب دعائیں اس میں شامل ہیں۔یہ سب مرادیں ہیں جو ہم مانگ رہے ہیں۔اسی طرح اس راستے پر چلنے کے نتیجے میں ہم پر بہت سی ذمہ داریاں عائد ہونے والی ہیں۔ہم خدا سے یہ دعا مانگتے ہیں کہ آرنا منا سحنا ہمیں ہماری قربان گاہیں دیکھا۔وہ جگہیں دکھا جہاں ہم تیرے حضور اپنی قربانیاں پیش کریں گے۔ہم خدا سے یہ دعا مانگتے ہیں کہ اے خدا! ہم سے ہمارے سارے اموال لے لے اور ہماری جانیں لے لے اور ہم سے یہ سودا کرنے کہ ہمارا کچھ بھی نہیں رہا، سب تیرا ہو گیا ہے اور اس کے بدلے ہمیں ایک آئندہ آنے والی جنت کی خوش خبری دے دے۔یہ وعدہ کر لے کہ جب ہم اس دنیا کو چھوڑ دیں گے تو تیری دائی جنت میں داخل کئے جائیں گے۔پس جو ہاتھ میں ہے اسے چھوڑنے کی دعا مانگ رہے ہیں اور جو ہاتھ میں نہیں اور عام دنیا کی نگاہ میں ایک موہوم وعدہ ہے اسے حاصل کرنے کی دعا مانگ رہے ہیں۔یہی وجہ ہے کہ ایسے لوگوں کو پھر لوگ بے وقوف کہتے ہیں۔کہتے ہیں کہ پاگل ہیں۔ان کو پتہ ہی نہیں کہ یہ دنیا ہے جو آج کی زندگی ہے بس یہی سب کچھ ہے۔آنکھیں بند تو سب کچھ ختم اور وہ بنتے ہیں اور مذاق اڑاتے ہیں اور کہتے ہیں یہ پاگل لوگ خدا کے بندے بنتے ہیں، ہوش والے بنتے ہیں یہ تو بے وقوف ہیں۔مضاء ہیں ، لیکن خدا کے ان بندوں کے کانوں میں خدا کی یہ آواز پڑتی ہے۔الا انَّهُمْ هُمُ السُّفَهَاءُ ولكن لا يَعْلَمُونَ۔خبردار! ان کے طعنوں سے تم منتحل نہ ہو جانا۔ان کے طعنوں سے تم کہیں امیدیں نہ چھوڑ بیٹھنا۔ہم تمہیں بتاتے ہیں کہ الا لا نهُمْ هُمُ السُّفَها خبر دارایی وه لوگ ہیں جو بے وقوف ہیں۔تم بے وقوف نہیں ہو۔تم عقل والے ہو۔تم نے صحیح سودے کئے ہیں تو یہ دعائیں ہیں جو ہم مانتے ہیں۔اور پھر زنجیریں مانگتے ہیں۔قید کی دعا مانگتے