ذوق عبادت اور آداب دُعا

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 162 of 528

ذوق عبادت اور آداب دُعا — Page 162

162 ہیں۔یہ دعا مانگتے ہیں کہ ہماری ساری عمر پابندیوں میں صرف ہو جائے یہ دعا مانگتے ہیں کہ اس قید خانے میں ہمیں ڈال جس کا ذکر تیرے بچے رسول محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم نے ان الفاظ میں فرمایا کہ الدُّنْیا سِجْنُ لِلْمُؤْ مِن وَجَنَّةَ لِلْكَافِرِ که دنیا تو مومن کے لئے ایک قید خانہ ہے۔مصیبت خانہ ہے جس میں وہ پڑ جاتا ہے۔کسی چیز کی آزادی نہیں رہتی۔یہ نہیں کرنا وہ نہیں کرنا۔سونے لگتا ہے تو پابندیوں کے ساتھ سوتا ہے۔اٹھتا ہے تو پابندیوں میں آنکھیں کھولتا ہے جو قدم اٹھاتا ہے یہ سوچتا ہے کہ یہ خدا کی ناراضگی کا قدم تو نہیں اور کونسا ایسا قدم اٹھاؤں کہ خدا کی پابندی کی زنجیروں میں جکڑا رہتے ہوئے دھیرے دھیرے آہستہ آہستہ انہیں راہوں پر قدم اٹھاؤں جن راہوں پر جانے کی یہ زنجیریں مجھے اجازت دیتی ہیں۔پس آنحضرت صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم نے تو قصے کو مختصر فرما دیا اور کہا کہ ہاں! اب دعا مانگو کہ اے خدا! ہمیں عمر بھر کا قیدی بنا دے۔ایسا قیدی بنا دے جس کی گویا ساری آزادیاں چھین لی گئیں۔پس یہ دعا ہے جو آپ مانگ رہے ہیں اور پانچ وقت بھولے پن سے اپنی ہر نماز کی ہر رکعت میں مانگتے ہیں اور پھر خدا کے جو اور بھی زیادہ سادہ لوح اس سے محبت کرنے والے پیار کرنے والے بندے ہیں وہ نفلوں کے اضافے کرتے ہیں۔راتوں کو اٹھتے ہیں۔دنوں کی دعا سے مطمئن نہیں ہوتے کہتے ہیں ابھی ہم نے پوری مصیبتیں نہیں مانگیں اے خدا! اب باقی وقت ہم مزید مصیبتیں مانگتے ہیں۔جو کچھ رہ گیا ہے وہ ہم پر نازل فرما۔یہ عرض کرتے ہیں کہ اے خدا! ہمیں ان لوگوں میں شامل نہ فرما جو قرآن کے بیان کے مطابق یہ سمجھتے ہیں کہ ایمان لانا کافی ہے اور اس کے بعد کوئی ابتلاء نہیں آئیں گے۔ہمیں ان لوگوں میں داخل فرما جو ایمان لائے یہ جانتے ہوئے کہ یہ ابتلاؤں کا رستہ ہے اور یہ دعا کرتے ہوئے داخل ہوئے کہ اے خدا! اب وہ ابتلا ہم پر ڈال لیکن یہ رحم فرما کہ ان ابتلاؤں میں ثابت قدم فرما۔ان ابتلاؤں سے زندہ سلامت گزار دے اور پھر ہم تیرے فضلوں کے وارث بنتے ہوئے ان ابتلاؤں کے دور سے نکلیں۔