ذوق عبادت اور آداب دُعا — Page 160
160 کو بھی اپنے دائرے میں لیتی ہے اور ان سے بچنے کے لئے بھی ہمیں متوجہ کرتی ہے۔ای طرح أَنْعَمْتَ عَلَيْهِمْ کا دائرہ بھی بہت ہی وسیع ہے۔پس جیسا کہ میں نے جماعت کو نصیحت کی تھی کہ قرآن کریم کے مطالعہ سے انعمت کی تعریف معلوم کریں کہ اَنْعَمْتَ عَلَيْهِمُ والے لوگ ہیں کیا؟ اور ان کا مزید مطالعہ کریں۔پھر جب آپ دعا مانگیں گے تو پتہ ہو گا کہ کیا مانگ رہے ہیں۔آنکھیں بند کر کے نہیں مانگیں گے بلکہ ہوش سے مانگیں گے اور اس کی ذمہ داریوں کو سمجھ کر دعا مانگیں گے اور پھر ان کا دل ان کو بتائے گا کہ وہ اپنی دعا میں بچے ہیں یا جھوٹے ہیں۔واقعی صمیم قلب سے دل کی گہرائیوں سے دعا کر رہے ہیں یا پوپلے منہ کی باتیں ہیں اس سے زیادہ ان کی کوئی حقیقت نہیں۔یہ دعا آسان دعا نہیں اب بتائیے کہ یہ دعا کوئی آسان دعا ہے کہ اے خد! ہمیں ان رستوں پر چلا جن رستوں پر پتھر پڑتے ہوں۔اے خدا! ہمیں ان رستوں پر چلا جہاں گندی گالیاں دی جاتی ہیں۔اے خدا!! ہمیں ان رستوں پر چلا جہاں بغیر قصور کے لوگ گھروں سے نکالے جاتے ہوں اور قتل کئے جاتے ہوں۔ایسے رستوں پر چلا جہاں چلنے والوں کی آنکھوں کے سامنے ان کے بچے ذبح کئے جاتے ہوں، ان کی مائیں ذریج کی جاتی ہوں، انکی عزتیں لوٹی جاتی ہوں۔انہیں ہر قسم کے الزامات کا نشانہ اور طعنہ و تشنیع کا نشانہ بنایا جاتا ہو۔جہاں زندگی عذاب بنادی جاتی ہو۔اب بھلا یہ دعا کوئی ہوش مند آنکھیں کھول کر کر سکتا ہے مگر جب انعمت عَلَيْهِمْ کی تاریخ پر غور کرتے ہیں تو اس راہ سے گذرنے والے، جو راہ ہم مانگ رہے ہیں، اسی قسم کی مصیبتوں میں مبتلا کئے گئے۔اپنے گھروں سے نکالے گئے۔بغیر کسی قصور کے ان کو قتل کیا گیا۔ان کو گھروں سے نکالا گیا۔ان کے اموال لوٹے گئے۔انہیں طرح طرح کے سب رشتم کا نشانہ بنایا گیا۔ساری زندگی ان سے نفرتیں کی گئیں۔ان کو حقیر قرار دیا گیا۔ان کو گمراہ قرار دیا گیا۔ذلیل اونی اونی لوگ جب ان راہوں سے گزرتے تھے جہاں سے خدا کے یہ نیک انعام پانے والے بندے گزر رہے ہوتے تو بڑی بڑی باتیں ان پر بناتے تھے اور ان کو حقارت سے دیکھتے تھے۔ایک