ذوق عبادت اور آداب دُعا

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 121 of 528

ذوق عبادت اور آداب دُعا — Page 121

121 کھلاتے ہیں ان پر بڑا فخر محسوس کرتے ہیں۔جو کوئی اچھا کام کیا یا کسی قسم کا بھی ایسا کام کیا جو کم سے کم اس کی نظر میں قابل تعریف ہو تو اس پر وہ چھوٹی چھوٹی باتوں پر اترانے لگ جاتے ہیں۔وَيُحِبُّونَ أَن يُعْمَدُوا بِما لم يفعلوا اس کے ساتھ وہ اس بیماری میں ضرور مبتلا ہوتے ہیں کہ جو کام وہ نہیں کرتے ان کے لئے بھی تعریف کے خواہاں ہو جاتے ہیں۔اور جب یہ بیماری بڑھکر اس مقام تک پہنچ جاتی ہے تو فلا تحْسَبَنَّهُمْ بِمَفَازَةٍ مِنَ الْعَذَابِ پھر یقین رکھ کہ یہ لوگ عذاب سے محفوظ نہیں ہیں۔وَلَهُمْ عَذَاب آینہ اور ان کو درد ناک عذاب میں مبتلا کیا جائے اس جھوٹی تعریف کی تمنا بالآخر شرک بن جاتی ہے مضمون کا تعلق یقیناً آخرت سے ہے لیکن یہ غلط ہے کہ اس دنیا سے نہیں کیونکہ تعریف کی پیاس جب اس حد تک بڑھ جاتی ہے کہ انسان ان چیزوں پر بھی تعریف کی تمنا ر کھنے لگ جاتا ہے، تعریف کروانے کے لئے اس کے دل میں پیاس لگ جاتی ہے جن چیزوں میں اس کا کوئی بھی حصہ نہیں ہو تا یعنی کام کسی اور نے کیا اور تعریف اس نے اپنی کرنی شروع کروادی۔یہ بات بھی آپ روزمرہ کی زندگی میں ہر گھر میں مشاہدہ کرسکتے ہیں۔ہر انتظام میں مشاہدہ کر سکتے ہیں اور انسانی تعلقات میں اور قوموں کے تعلقات میں بھی یہ بات اگر آپ باریک نظر سے دیکھیں تو آپ کو دکھائی دے گی۔اگر کسی نے کوئی اچھا کام کیا ہو اور تایا نہ جائے مثلاً گھر میں بچوں کے ساتھ گفتگو کرتے ہوئے کہ ہمیں علم ہے کہ کس نے اچھا کام کیا ہے اور آپ اچانک پوچھیں کہ کس نے کیا ہے تو بے اختیار کئی بچے ہاتھ اونچا کریں گے کہ ہاں ! ہم نے کیا ہے۔اگر ان کو یہ یقین ہو جائے کہ پتہ نہیں لگے گا کہ کس نے کیا تھا تو پھر اکثر بچوں کے اندر یہ رجحان پایا جاتا ہے کہ وہ اس بات میں اپنی تعریف کروائیں جو بات انہوں نے نہیں کی۔ان کے بھائی یا کسی بہن نے کی تھی لیکن چونکہ تعریف ہو رہی ہے اس لئے وہ کہتے ہیں ہم نے کیا ہے۔اور اگر کوئی یہ نہ کر سکے تو تعریف میں حصہ ڈالنے کی عادت تو اتنی پختہ ہے کہ اس سے تو شاید ہی کوئی انسان بری ہو۔اگر آپ کسی سے پوچھیں کہ بہت اچھا