ذوق عبادت اور آداب دُعا — Page 120
120 اظہار کے لئے اپنے جسم کو مختلف شکلیں دیتا ہے۔بعض آوازیں نکالتے ہیں۔بعض خاموش اظہار کرتے ہیں۔یہ جو مناظر ہیں یہ نمایاں طور پر آپ کی نظر کے سامنے رہتے ہیں اور ان سے معلوم ہوتا ہے کہ انسان کسی حد تک حمد کا پیاسا ہے اور یہ پیاس اس کو مجبور کر دیتی ہے کہ جہاں حمد کے چند قطرے میں انکو نہ صرف پیسے بلکہ فخر سے اظہار کرے کہ ہاں آج میری پیاس بجھ گئی۔یہ واقعات روز مرہ کی زندگی میں ہم سے ہو رہے ہوتے ہیں جب ہم دوسروں کو دیکھتے ہیں تو دکھائی دیتے ہیں۔جب اپنے اوپر نظر ڈالتے ہیں تو دکھائی نہیں دیتے۔پس اس لئے اس مضمون کو خوب کھول کر بیان کرنے کی ضرورت ہے کہ اپنے اندر حمدہ چاہنے کا جذبہ اس طرح دکھائی نہیں دے گا جیسے دوسرے کا حمد چاہنے کا جذبہ آپ کو دکھائی دیتی ہے۔دوسرے کی تعلی پر آپ کو بعض دفعہ ہنسی بھی آجاتی ہے مگر یہ بھول جاتے ہیں کہ یہ تھی آپ کا نفس روزانہ کرتا ہے اور کرتا چلا جاتا ہے اور کوئی آنکھ اس کو دیکھتی نہیں۔قرآن کریم فرماتا ہے کہ یہ جذبہ جب آگے بڑھتا ہے تو پھر ایسی حمد کا بھی انسان طالب ہو جاتا ہے جو ظاہری طور پر بھی اس کو نہیں ملنی چاہئیے۔یعنی حمد کے بعض قصے تو یہ ہیں جیسا کہ میں نے بیان کیا ہے اس میں انسان نے ایک اچھا کام ضرور کیا ہے لیکن وہ اچھا کام خود اس کی ذاتی توفیق سے ایسا متعلق نہیں تھا جتنا اللہ تعالیٰ کی بے انتہاء عنایات سے تعلق رکھتا تھا۔اس کا اس موقعہ پر اس بات کو بھلا دینا یا یہ اہمیت نہ رکھنا کہ اپنے اچھے فعل کے پیچھے خدا کے ہاتھ دیکھے اور خدا کی تخلیق کے ان گنت کرشموں کا نظارہ کرے تو یہ چیز جو ہے یہ ایک حد تک سمجھنے کے لائق ہے اور سمجھانے کے لائق ہے لیکن قرآن کریم فرماتا ہے کہ انسان صرف اسی بات پر راضی نہیں ہوتا ہمیں ٹھر نہیں جاتا۔فرمایا : لا تَحْسَبَنَّ الَّذِينَ يَفْرَحُونَ بِمَا آتَوا وَيُحِبُّونَ أَن يُعْمَدُوا بِمَا لَمْ يفعَلُوا فَلَا تَحْسَبَنَّهُمْ بِمَفَازَةٍ مِنَ الْعَذَابِ وَلَهُمْ عَذَابٌ أَلِيم (سورة آل عمران (۱۸۹) کہ تو ہر گز یہ گمان نہ کر کہ وہ لوگ جو چھوٹی چھوٹی باتوں پر اتراتے ہیں۔جو کچھ گل وہ