ذوق عبادت اور آداب دُعا

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 122 of 528

ذوق عبادت اور آداب دُعا — Page 122

122 کھانا پکا ہے، کس نے پکایا ہے؟ تو اگر گھر کی مالکہ نے پکایا ہو گا تو وہ کہے گی میں نے پکایا ہے، کوئی دوسرا ساتھ بولے گا مصالحہ تو میں نے بتایا تھا، ایک تیسرا جائے گا کہ ترکیب میری تھی ، ایک چوتھا کہے گا کہ ڈوئی میں پھیرتا رہا ہوں غرضیکہ ہر شخص بیچ میں اپنا حصہ ڈالنے کی کوشش کرتا ہے۔یہ روز مرہ کی چھوٹی چھوٹی باتوں کا مشاہدہ ہے لیکن یہ آگے جا کر بہت گہری بیماری میں تبدیل ہو جاتا ہے اور ایسے اشخاص کو بعد ازاں احتمال ہے کہ گہری روحانی بیماریاں نہ لاحق ہو جائیں۔اس کی تفصیل میں جانے کی یہاں ضرورت نہیں۔ہر انسان اپنی زندگی کے واقعات پر غور کر کے یہ جائزہ لے سکتا ہے کہ کس حد تک اس نے اس معاملے میں ٹھو کر کھائی یعنی تعریف کی ایک خواہش تو طبیعی ہے اسے اپنے مقام پر رکھنا اور لگام ڈال کر رکھنا یہ ایک الگ مسئلہ ہے مگر جو واقعہ ہوا ہی نہیں ضمن میں جھوٹی تعریف کی تمنا یہ بہت بڑی بیماری ہے اور یہ شرک کی بدترین قسم بن جاتی ہے اور ایسے لوگ پھر سب سے زیادہ خدا کی تعریف اس سے چھینتے ہیں اور عمدا " ہر چیز میں بات اپنے ذمے لگاتے ہیں کہ ہماری وجہ سے یہ ہوا ہے۔اور یہ بیماری جب زیادہ باریک ہو جاتی ہے تو عجیب و غریب شکلیں اختیار کرتی ہے۔میں اس کا نمونہ آپ کے سامنے رکھنا چاہتا ہوں جس سے آپ کو معلوم ہو گا کہ نیک انسان بھی اس قسم کی بعض بیماریوں سے محفوظ نہیں رہتے۔عام طور پر موحد ہیں لیکن بہت سی باتوں میں غلطی کر جاتے ہیں۔اس ہر فضل و احسان اللہ ہی کی طرف سے آتا ہے یہ بھی رجحان پایا جاتا ہے کہ اگر خدا کا کوئی فضل ہو تو انسان اپنے اندر وہ نیکی تلاش کرتا ہے کہ کس وجہ سے فضل ہوا ہے۔خدا نے کوئی خاص احسان کیا تو انسان کہتا ہے اس لئے ہے کہ میں نے غریبوں کی ہمدردی کی تھی۔خدا نے بہت احسان کیا اور شفاء بخشی تو انسان سوچتا ہے کہ یہ اس لئے ہے کہ میں نے فلاں انسان کے ساتھ نیکی کا سلوک کیا تھا اور یہاں تک کہ جب کسی شخص پر خدا کا خاص فضل نازل ہو تو لوگ بھی کا جو تبصرے کرتے ہیں ان میں اس شخص کی خوبیاں تلاش کر رہے ہوتے ہیں کہ خدا تعالیٰ نے جو اس پر یہ فضل کیا ہے تو اس کی یہ بات سنی گئی، اس کی یہ نیکی کام آئی اور ہمارے