زرّیں ہدایات (جلد چہارم برائے طلباء۔1932ء تا 1959ء) — Page 82
زریں ہدایات (برائے طلباء ) 82 جلد چهارم بچہ پہلے منٹ میں ہی کچھ نہیں سیکھتا تو یہ کیونکر ممکن ہے کہ وہ جو غذا سے بالکل عاری ہوتا ہے پہلے ہی منٹ میں ماں جب اس کے منہ میں اپنی چھاتیاں دیتی ہے تو وہ دودھ پینے لگ جاتا ہے۔خدا تعالیٰ نے کچھ ایسا قانون بنایا ہے کہ بچہ جو پیٹ میں سانس نہیں لیتا جب باہر آتا ہے تو ہوا لگنے کے ساتھ ہی اس کے پھیپھڑے کام کرنا شروع کر دیتے ہیں اور وہ سانس لینے لگتا ہے۔اس کے ہونٹوں میں ایک حرکت پیدا ہوتی ہے اور اس حرکت سے ان میں ایک مزہ پیدا ہوتا ہے۔چونکہ ہونٹوں کو ہلانے سے وہ ایک لذت محسوس کرتا ہے اس لئے ماں جب اپنی چھاتیاں اس کے منہ میں دیتی ہے تو وہ فوراً منہ ہلانے لگ جاتا ہے۔ایک دو دفعہ منہ ہلانے سے جب وہ محسوس کرتا ہے کہ اس کے پیٹ میں بھی تسکین کی حالت پیدا ہو رہی ہے تو وہ دودھ پینا سیکھ جاتا ہے۔اور اصل میں وہ اُسی وقت پہلی دفعہ دودھ پینا سیکھتا ہے ورنہ پہلے تو وہ سانس لیتا ہے۔پھر ہونٹ ہلاتا ہے۔پھر ہونٹ ہلانے سے ایک مزہ پیدا ہوتا ہے اور یہ مزہ اسے دودھ پینا سکھاتا ہے۔پس اس سے معلوم ہوتا ہے کہ بچہ کی زندگی اتنی جلدی جلدی ترقی کرتی ہے کہ وہ ہزار ہا چیزیں ایک ہی وقت میں سیکھ رہا ہوتا ہے۔وہ زبان بھی سیکھ رہا ہوتا ہے، اخلاق کے جذبات بھی سیکھ رہا ہوتا ہے، اعمال کے طریق بھی سیکھ رہا ہوتا ہے ، حفظانِ صحت کے قوانین بھی سیکھ رہا ہوتا ہے۔غرض وہ ساری باتیں ایک وقت میں سیکھ رہا ہوتا ہے۔لیکن بڑا آدمی اس طرح نہیں سیکھ سکتا۔وہ ایک کام سے توجہ ہٹا کر ہی دوسری طرف توجہ مبذول کر سکتا ہے۔چنانچہ اگر اس کی توجہ ایک طرف لگی ہوئی ہوگی تو وہ دوسری طرف سے غافل ہو گا لیکن بچہ کی زندگی ایسی نہیں۔پس یہی وہ عمر ہے جس کی سب سے زیادہ حفاظت کی ضرورت ہے۔جو لوگ اس عمر میں بچوں کی حفاظت نہیں کرتے وہ گویا انہیں ایسے لوگوں کے قبضہ میں دے دیتے ہیں جو ان کے دشمن ہیں۔آجکل یورپ میں ایک تحریک جاری ہے جو زیادہ تر بالشویک لوگوں سے تعلق رکھتی ہے۔یہ لوگ کہتے ہیں کہ بچے کو مذہب سکھانا جائز نہیں۔وہ بڑا ہو کر خود بخو دسیکھ لے گا۔