زرّیں ہدایات (جلد چہارم برائے طلباء۔1932ء تا 1959ء) — Page 83
زریں ہدایات (برائے طلباء ) 83 جلد چهارم حالانکہ یہ بالکل پاگل پن کی بات ہے۔کیونکہ بچہ تو کسی چیز کو شروع سے ہی سیکھنا شروع کر دیتا ہے۔ظاہر ہے کہ بچے پر اگر ماں باپ کا اثر نہیں ہو گا تو اس پر دوسروں کا اثر پڑنا شروع ہو جائے گا۔لیکن دوسرے چونکہ ماں باپ سے زیادہ بچہ کے خیر خواہ نہیں ہو سکتے اور ممکن ہے اس کے بدخواہ ہی ہوں اس لئے بچے کو وہی تعلیم ملنی چاہئے جو اس کے سب سے زیادہ خیر خواہ اسے دیں۔اور اسے وہی اثر قبول کرنا چاہئے جو اس کے سب سے زیادہ خیر خواہ اس پر ڈالیں۔مثلاً ایک عیسائی ماں باپ کو اپنے بچوں کو عیسائی ہی بناتے ہیں مگر ساتھ ہی نیکی کی تعلیم بھی دیتے ہیں، سچ بولنے کی تلقین کرتے ہیں ، جھوٹ سے منع کرتے ہیں اور وہ یہ نہیں چاہتے کہ ان کا لڑکا بدمعاش ہو جائے یا جھوٹ بولے۔گو وہ یہ سکھائیں گے کہ حضرت عیسی خدا کے بیٹے تھے یا یہ کہ خدا تین ہیں۔اور گو یہ تعلیم غلط ہے لیکن وہ اسے سچ سمجھ کر اسے سکھائیں گے اور اسے تلقین کریں گے کہ ہمیشہ سچ پر قائم رہنا۔اور گو عیسائیت کی تعلیم جو وہ اسے دے رہے ہوں گے غلط ہو گی مگر اس کے پیچھے جو روح ہے وہ صحیح ہوگی۔مثلاً ایک ہندو اپنے لڑکے یا لڑکی کو بے شک یہی تعلیم دے گا کہ مندروں میں جانا چاہئے ، مورتی کی پوجا کرنی چاہئے ، گو یہ تعلیم غلط ہے مگر یہ تعلیم ہی اسے یہ سکھاتی ہے کہ نیک بننا چاہئے ، سچ بولنا چاہئے ، بددیانتی اور غیبت سے پر ہیز کرنا چاہئے اور خدا سے ڈرنا چاہیئے۔یہی حال سکھوں ، یہودیوں اور مسلمانوں کا ہے۔ہر ماں باپ اپنے بچوں کو اپنی اپنی تعلیم دیتے ہیں لیکن ساتھ ہی ان کے دل میں سچائی کو قبول کرنے کا مادہ بھی دیکھتے ہیں۔مگر غیر آدمی سے نیکی کی تعلیم کی توقع نہیں کی جاسکتی۔بالکل ممکن ہے وہ جھوٹ، بددیانتی اور چوری وغیرہ کی تعلیم دے۔پس معلوم ہوا کہ ماں باپ غلط تعلیم تو دے سکتے ہیں مگر بالعموم کوئی نہ کوئی نیک بات بھی اپنے بچوں کے دلوں میں ڈالتے رہیں گے اور یہی نیک بات کسی نہ کسی وقت ان کے کام آئے گی۔مثلاً جب ایک ہندو اپنے بچے کو دیانت داری کی تعلیم دیتا ہے تو جب وہ بچہ بڑا ہو کر یہ دیکھے گا کہ اسلام سچا مذہب ہے تو وہ اس دیانت داری کے اثر کے ماتحت اسلام کو قبول کرے گا۔اسی طرح ایک عیسائی کے والدین اپنے لڑکے یا