زرّیں ہدایات (جلد چہارم برائے طلباء۔1932ء تا 1959ء) — Page 81
زریں ہدایات (برائے طلباء ) 81 جلد چهارم ہیں۔اگر درختوں پر رہنے والے پرندے ان کے اثر کو قبول کرتے ہیں ، اگر پانی کے اندر رہنے والی مچھلیاں پانی سے اثر قبول کرتی ہیں اور اگر پانی کے اوپر اور پانی کے نیچے رہنے والی مخلوق اپنے گردو پیش سے اثر قبول کرتی ہے تو یہ کیونکر ممکن ہے کہ وہ چیزیں جو اثر کو کم قبول کرتی ہیں وہ تو اثر قبول کریں لیکن انسان جو سب سے زیادہ اثر کو قبول کرتا ہے وہ اثر قبول نہ کرے۔یہ ناممکن ہے۔انسان چونکہ سب سے زیادہ اثر قبول کرنے والا ہے اس لئے وہ سب سے زیادہ اثر قبول کرے گا۔یہی وجہ ہے کہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا کل مَوْلُودٍ يُوْلَدُ عَلَى فِطْرَةِ الإِسْلامِ یعنی ہر بچہ جب پیدا ہوتا ہے تو وہ فطرت اسلام پر پیدا ہوتا ہے آگے فرمایا فَاَبَوَاهُ يُهَوِدَانِهِ أَوْ يُنَصِرَانِهِ أَوْ يُمَحِسَانِهِ 1 یعنی بچہ پیدا تو فطرت اسلام پر ہوتا ہے لیکن بعد میں اس کے ماں باپ اسے یہودی یا عیسائی یا مجوسی بنا لیتے ہیں۔گویا انسانی فطرت جو پاکیزہ ہوتی ہے اس کو ماں باپ یا صحبت کا اثر بدل کر کچھ کا کچھ کر دیتا ہے۔انسان پر تو صحبت کا اثر سب سے زیادہ پڑتا ہے۔دوسری چیزوں پر ظاہری اثر زیادہ پڑتا ہے اور باطنی اثر بہت کم۔لیکن انسان پر باطنی اثر زیادہ پڑتا ہے اور وہ اس اثر کے ماتحت اس قدر بدل جاتا ہے کہ مومن سے کا فربن جاتا ہے۔پس جب یہ معلوم ہوا کہ صحبت کا اثر اتنا گہرا پڑتا ہے تو آپ کو ہمیشہ یہ بات مدنظر رکھنی چاہئے کہ بچوں کی جو سب سے زیادہ اثر قبول کرنے والے ہوتے ہیں بہت زیادہ حفاظت کریں۔بچوں کی زندگی بہت اثر قبول کرنے والی زندگی ہے کیونکہ ان میں نقل کا مادہ بہت زیادہ پایا جاتا ہے اور وہ بہت جلد باتیں سیکھنے لگ جاتے ہیں۔چھوٹے سے چھوٹا بچہ بھی حتی کہ پیدا ہوتے ہی بچہ پہلے منٹ میں کچھ نہ کچھ سیکھنے لگ جاتا ہے۔دوسرے منٹ میں وہ اور زیادہ سیکھ لیتا ہے۔یہی وجہ ہے کہ دومنٹ کا بچہ ایک منٹ کے بچے سے زیادہ سیکھ چکا ہوتا ہے اور تین منٹ کا بچہ دومنٹ کے بچے سے زیادہ سیکھ چکا ہوتا ہے اور اس طرح جوں جوں وہ بڑھتا ہے زیادہ سے زیادہ سیکھتا چلا جاتا ہے۔پہلے رونے سے اپنی ضرورت کا اظہار کرتا ہے، پھر ہوں ہاں کرنے لگتا ہے اور پھر لفظ بولنے لگ جاتا ہے۔اگر