زرّیں ہدایات (جلد چہارم برائے طلباء۔1932ء تا 1959ء)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 65 of 348

زرّیں ہدایات (جلد چہارم برائے طلباء۔1932ء تا 1959ء) — Page 65

زریں ہدایات (برائے طلباء ) 65 جلد چهارم کے جواب میں کہا کہ اے میرے رب! میری خواہش یہ ہے کہ مجھے پھر دوبارہ زندہ کرتا میں پھر تیری راہ میں اپنی جان دوں، اور پھر زندہ کر اور پھر اپنی راہ میں وفات دے4 اب یہ لوگ جاہل نہیں تھے اور نہ دنیا ان کو کبھی جاہل کہہ سکتی ہے۔کیونکہ ان لوگوں نے دنیا میں علوم کے دریا بہا دیئے اور دنیا کو انہوں نے وہ کچھ دیا جو نہ ایران دے سکا نہ روم دے سکا۔انہوں نے دنیا کو وہ علوم سکھائے کہ آج یورپ بھی انہی کی خوشہ چینی کر رہا ہے۔تم کو جو تعلیم دی جاتی ہے شاید اس کے ماتحت میری اس بات پر تم تعجب کرو اور کہو کہ یورپ کب مسلمانوں کے علوم پر فخر کرتا ہے۔مگر حقیقت یہی ہے کہ تمہارے کورسوں میں بھی ان باتوں کو چھپایا جاتا ہے۔ہاں بعض علیحدہ کتابیں ہیں جن میں ان تمام امور کا ذکر ہے اور جن سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ علم طب اور علم فلسفہ اور علم ہندسہ اور علم ہیئت اور علم منطق اور اسی طرح کے اور بیسیوں علوم ایسے ہیں جو عربوں سے یورپ نے سیکھے۔حتی کہ ان علوم کے متعلق جس قدر اصطلاحات ہیں وہ بھی عربوں کی ہی نقل کی ہوئی ہیں۔اور تو اور میوزک کے متعلق میں نے ایک کتاب دیکھی ہے جس میں یہ ثابت کیا گیا ہے کہ آجکل گانے بجانے کے متعلق جس قدر تازہ قوانین بنائے گئے ہیں وہ سب کے سب حتی کہ ان کے متعلق اصطلاحات بھی عربوں کی کتب سے لی گئی ہیں۔پھر اس ضمن میں وہ ایک عجیب بات کا ذکر کرتا ہے وہ برٹش میوزیم کی ایک کتاب کا حوالہ دیتے ہوئے لکھتا ہے کہ اس کے مصنف نے پادریوں سے پوچھا کہ فلاں فلاں علم کی کتابیں مسلمانوں میں نہایت اعلیٰ درجہ کی ہیں۔کیا میں مسلمانوں کی ان کتابوں کا انگریزی میں ترجمہ کر سکتا ہوں؟ وہ لکھتا ہے کہ بشپ نے اس کے جواب میں اسے لکھا کہ ترجمہ تو بے شک کرو مگر مسلمانوں کا نام کہیں نہ لو اور اشارہ بھی یہ ذکر نہ کرو کہ تم کسی مسلمان کی کتاب کا ترجمہ کر رہے ہو ایسا نہ ہو کہ ہمارا مذہب خراب ہو جائے۔پھر وہ لکھتا ہے کہ اس بشپ کا یہ خط برٹش میوزیم میں آج تک موجود ہے۔غرض آج جس قدر علوم رائج ہیں اور جن پر یورپ فخر محسوس کرتا ہے وہ سب کے سب یا ان کا ایک معتد بہ حصہ