زرّیں ہدایات (جلد چہارم برائے طلباء۔1932ء تا 1959ء)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 64 of 348

زرّیں ہدایات (جلد چہارم برائے طلباء۔1932ء تا 1959ء) — Page 64

زریں ہدایات (برائے طلباء ) 64 جلد چهارم ہے کہ نہ کپڑا میسر ہو نہ عمدہ کھانا صرف ایک لحاف تھا جس میں ایک ادھیڑ عمر کا لڑکا اور ایک بڑھیا پھونس 3 سوتی تھی مگر ان کے نزدیک دنیا کی ساری نعمتیں انہیں میسر تھیں۔گھر میں ان کے لئے کوئی راحت کا سامان نہ تھا۔ان کے بچے نہ تھے۔وہ لڑکا شادی شدہ نہ تھا۔گویا آئندہ نسل کے جاری رہنے کا بھی کوئی امکان نہ تھا۔اگر کوئی دنیا دار ہوتا تو یہ حالت دیکھ کر وہ رو رو کر اپنی آنکھیں ضائع کر لیتا۔مگر وہ بڑھیا عورت کہتی ہے قرآن میرے پاس موجود ہے اس کے علاوہ مجھے اور کیا چاہئے۔تو قرآن سے جو راحت وہ حاصل کرتی تھی وہی راحت دنیا کے تمام عذابوں کو ٹھنڈا کر دیتی اور دنیا کے رنجوں کو خوشی میں بدل دیتی تھی۔ایک دنیا دار بے شک کہے کہ یہ جہالت ہے ، یہ بے وقوفی اور نادانی ہے۔مگر سوال یہ ہے کہ یہ اس کے نزدیک جہالت ہے۔ان لوگوں کے نزدیک جہالت نہیں جنہوں نے روحانی زندگی حاصل کی۔لیکن خواہ اس کا نام جہالت رکھ لو تمہیں اقرار کرنا پڑے گا کہ ایک چیز دنیا میں ایسی موجود ہے جو دنیا کی تمام تکلیفوں اور دکھوں کو ٹھنڈا کر کے ان کو راحت میں بدل دیتی ہے۔پھر اس کے بعد دیکھ لو ایسے عالم لوگ جن کے علم کا کوئی انکار نہیں کر سکتا ، جنہوں نے دنیا میں عظیم الشان تغیرات پیدا کر دیئے ہیں مثلاً انبیاء اور صحابہ کرام ان میں بھی ایسے لوگ پائے جاتے ہیں جو دنیا میں تکالیف کے لحاظ سے انتہاء درجہ تک پہنچ گئے مگر ان کے کی کیا دل کی خوشیاں نہیں گئیں۔رسول کریم ﷺ نے ایک دفعہ ایک صحابی کو جوا بھی نوجوان لڑکا تھا دیکھا کہ وہ غمگین صورت بنائے کھڑا ہے۔رسول کریم ﷺ نے اسے فرمایا تم غمگین کیوں ہو؟ وہ کہنے لگا یا رسول اللہ! میرا باپ بدر کی جنگ میں شہید ہو گیا ہے اور میں اس غم کی وجہ سے افسردہ شکل ہوں۔آپ نے فرمایا میں تمہیں بتاؤں کہ مرنے کے بعد تمہارے باپ سے کیا کیفیت گزری۔سنو! اللہ تعالیٰ نے مجھے الہاما بتایا ہے کہ تمہارے باپ کی روح مرنے کے بعد اللہ تعالٰی کے سامنے پیش کی گئی اور اللہ تعالیٰ نے خوش ہو کر کہا میرے بندے! تیری کوئی خواہش ہو تو مجھ سے بیان کر۔میں تیری ہر خواہش پوری کروں گا۔تمہارے باپ نے اس صلى الله