زرّیں ہدایات (جلد چہارم برائے طلباء۔1932ء تا 1959ء) — Page 66
زریں ہدایات (برائے طلباء ) 66 جلد چهارم ایسا ہے جو مسلمانوں سے آیا۔ابن رشد کا فلسفہ آج سے سو سال پہلے پیرس کی یونیورسٹی میں پڑھایا جاتا تھا۔مگر لوگوں کو مغالطہ میں رکھنے کے لئے اور یہ ظاہر کرنے کے لئے کہ گویا یہ فلسفہ کسی انگریز کی دماغی کاوش کا نتیجہ ہے ابن رشد کو ایور ریس (Averroes) کہا جاتا ہے۔اسی طرح بوعلی سینا کا قانون پڑھایا جاتا اور کہا جاتا کہ یہ ایوے سینا (Avicenna) کا قانون ہے۔گویا ناموں میں ذرا سا فرق کر دیا گیا اور اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ مسلمانوں نے بھی جب ان علوم کو انگریزوں کی کتابوں میں پڑھا تو انہوں نے یہ سمجھا کہ یہ کسی یوروپین مصنف کی تصنیف ہے۔حالانکہ وہ مسلمانوں کی تصنیف ہوا کرتی تھی۔لطیفہ یہ ہے کہ ایک دفعہ جب کہ مسلمانوں کی ترجمہ شدہ کتابیں روم کی یونیورسٹی میں پڑھائی جاتی تھیں بعض نئے علوم نکلے جن کی بناء پر عیسائیوں نے یہ کوشش کی کہ ان کتابوں میں سے بعض حصے نکال دیئے جائیں۔اس پر پادریوں نے کفر کے فتوے دیئے اور کہا کہ اگر ان حصوں کو نکالا جائے گا تو کفر ہو جائے گا۔گویا مسلمانوں کی کتابیں ایک لمبے عرصہ تک اپنے ہاں رائج رہنے کی وجہ سے پادری یہ سمجھنے لگ گئے کہ یہ عیسائیوں کی ہی کتابیں ہیں اور اگر کسی حصہ کو نکالا گیا تو کفر ہو جائے گا۔تو یہ جو میں نے کہا ہے کہ یورپ اب بھی مسلمانوں کے علوم پر فخر کرتا ہے اس کی گواب تمہیں سمجھ نہ آئے مگر جب تم بڑے ہو گے تو تمہیں معلوم ہوگا کہ یہی بات درست ہے جو میں نے کہی۔غرض وہ لوگ ایسے تھے جنہوں نے دنیا کو علم سے بھر دیا مگر ان کو بھی خدا نے جنت دی ہوئی تھی اور انہوں نے اپنے عمل سے ثابت کر دیا تھا کہ دنیا کی تکلیفیں تکلیفیں نہیں بلکہ وہ ان تمام تکلیفوں کو عین راحت سمجھتے اور اس بات پر فخر کرتے کہ اللہ تعالیٰ نے انہیں ان تکلیفوں کے برداشت کرنے کا موقع دیا۔حضرت طلحہ رضی اللہ عنہ کا ایک ہاتھ ایک لڑائی میں شل ہو گیا تھا حتی کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ کی بیعت جب سب سے پہلے انہی سے کرائی گئی تو کسی نے یہ فال لی تھی کہ جس