زرّیں ہدایات (جلد چہارم برائے طلباء۔1932ء تا 1959ء)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 60 of 348

زرّیں ہدایات (جلد چہارم برائے طلباء۔1932ء تا 1959ء) — Page 60

زریں ہدایات (برائے طلباء ) 60 جلد چهارم طرح مطالبہ کرے گی جس طرح تم اب مطالبہ کر رہے ہو۔اور وہ تم سے اسی طرح چمٹ کر یہ تقاضا کرے گی جس طرح جونکیں انسان کو چمٹ جاتی ہیں۔یہ سلسلہ اسی طرح چلتا رہا اور چلتا چلا جائے گا۔پھر یہ زندگی کیا ہے جس میں تم پڑنا چاہتے ہو۔اگر اس دن کا نقشہ تمہارے سامنے آجا تا تو تم کبھی اپنی امنگوں کو حد اعتدال سے بڑھنے نہ دیتے۔اگر وہ نئی نویلی دلہن جو خوشی سے پھولی نہیں سماتی اور کہتی ہے اب میں اپنے گھر میں آبسی اُس دن کا نقشہ اپنے تصور میں لائے جب اس کا بچہ دانت نکال رہا ہوگا ، اس کی آنکھیں دکھ رہی ہوں گی، بخار اور اسہال سے نڈھال ہو رہا ہوگا اور پندرہ پندرہ دن اس کی تیمارداری میں اسے جاگنا پڑے گا۔اور وہی مرد جو ابتدا میں بہادری سے اس کی خدمت کرنے کے لئے تیار تھا، جو اس پر اپنی جان قربان کرنے کے لئے بھی آمادہ تھا اسے گالی دے گا اور کہے گا کمبخت! بچے کو سلاتی کیوں نہیں اس نے میری نیند حرام کر دی۔تو کبھی وہ دکھاوے کے نقشہ سے بے جانخر میں مبتلا نہ ہو۔مگر پھر کیوں یہ سلسلہ ختم نہیں ہوتا ؟ اسی لئے کہ اللہ تعالیٰ نے افزائشِ نسل کے لئے اس سلسلہ کی بنیاد محبت پر رکھی ہے جبر پر نہیں رکھی۔اور چونکہ اس کی بنیاد محبت پر ہے اس لئے جب کوئی بچہ پیدا ہوتا ہے ماں باپ یہ سمجھتے ہیں کہ کوئی چیز انہیں مل رہی ہے۔یہ نہیں سمجھتے کہ ان کے لئے دکھ درد اور تکلیف کا سامان ہو رہا ہے۔یہ محبت انسانی دل پر اس قدر غالب ہے کہ اگر کوئی شخص کسی ماں سے کہے کہ لاؤ اپنا بچہ مجھے دے دو میں اسے مار ڈالوں تا اس کی وجہ سے تمہیں کوئی تکلیف نہ پہنچے تو وہ چیل کی طرح چھپٹا مار کر چاہے گی کہ اس کی آنکھیں نکال لے اور اگر ممکن ہو تو اس کا جگر چیر ڈالے۔اسی لئے کہ وہ اپنے بچہ کی پرورش محبت کی وجہ سے کرتی ہے جبر کی وجہ سے نہیں کرتی۔اگر جبر پر اس کی بنیاد ہوتی تو وہ کہتی بے شک لے جاؤ اور اسے مار ڈالو۔تو اللہ تعالیٰ نے اس سلسلہ کو محبت پر چلایا ہے تا دنیا کا سلسلہ قائم رہے اور ایک لمبے عرصہ تک ختم نہ ہو۔میرے پاس ایک دفعہ ایک شخص آیا وہ ایم اے تھا۔کہنے لگا میں کسی خدا کا قائل نہیں۔میں نے کہا کیوں؟ اس نے کہا اس لئے کہ دنیا میں اس قدر مشکلات اور مصائب