زرّیں ہدایات (جلد چہارم برائے طلباء۔1932ء تا 1959ء) — Page 59
زریں ہدایات (برائے طلباء ) 59 جلد چهارم اب خواہیں دیکھ رہے ہو ان کی تعبیر بھی اُسی طرح اڑ جائے گی جس طرح تمہارے ماں باپ کے خوابوں کی تعبیر اُڑی۔تم کو یہ نہیں معلوم کہ تمہارے آرام کی ہر گھڑی تمہارے ماں باپ کو جہنم میں دھکیل رہی ہے۔جس وقت تم ایک اچھا لقمہ کھاتے ہو وہ لقمہ گیہوں کا نہیں کھاتے بلکہ اپنے ماں باپ کے خون کی بوٹیاں کھاتے ہو۔جس وقت تم ایک اچھا کپڑا پہنتے ہو اس وقت تم روئی سے بنا ہوا کپڑا نہیں پہنتے بلکہ اپنے ماں باپ کا چمڑا ادھیڑ رہے ہوتے ہو۔لوگ کہتے ہیں یہ دنیا کا سلسلہ کیوں چلایا گیا؟ میں کہتا ہوں یہ اس تکلیف کا بدلہ لینے کے لئے چلایا گیا ہے جو بچوں نے اپنے ماں باپ کو دی تا ان کے بھی بچے ہوں اور ان کو بھی وہی دکھ ہو جو ان کے لئے ان کے ماں باپ نے اٹھایا۔جب وہ زمانہ آئے گا کہ تم بڑے ہو جاؤ گے، تمہاری امنگیں اپنے شباب پر ہوں گی اور تم کہو گے آج زمانہ آ گیا ہے کہ ہم شادیاں کریں اور اپنے گھر بسائیں۔اُس وقت تمہیں معلوم ہوگا کہ تمہارے دائیں اور بائیں دکھ ہی دکھ ہے۔تمہیں ہر چیز بری لگنی شروع ہو جائے گی اور وہی دن ہوگا جب تمہاری سزا کا وقت شروع ہوگا اور تم ان تمام امیدوں کو خاک میں ملتا دیکھو گے جو آج تمہارے دل میں پیدا ہورہی ہیں۔اس سے پہلے کسی نے اپنے خواب کی وہ تعبیر نہیں دیکھی جو زمانہ اسے دکھاتا ہے، نہ تمہارے باپ نے ، نہ تمہارے دادا نے ، نہ تمہارے پردادا نے۔جیسی تم اس وقت خواہیں دیکھتے ہو ویسی ہی خوا ہیں اپنی بچپن کی عمر میں وہ بھی دیکھا کرتے تھے۔اور جیسے تم آج یہ سمجھتے ہو کہ تم دنیا کے بادشاہ ہو، تم اپنے ماں باپ سے کہتے ہو فلاں چیز ہمیں لے دو اور اس کے بعد تم سمجھتے ہو اب یہ ان کا فرض ہے کہ وہ تمہیں وہ چیز لے کر دیں۔تم کبھی یہ نہیں دیکھتے کہ ان کے ذرائع آمد کیا ہیں ، ان کے اخراجات کس قدر زیادہ ہیں اور انہیں مالی تنگی کس قدر لاحق ہے۔تم صرف یہ جانتے ہو کہ جو کچھ تم نے مانگا وہ تمہیں مہیا کر دیا جائے۔بعینہ اسی طرح وہ بھی اپنے بچپن کے زمانہ میں اپنے ماں باپ سے تقاضا کیا کرتے تھے۔اور اب جو کچھ تم نے اپنے ماں باپ سے کیا ایک دن تم سے بھی کیا جائے گا۔تمہارے بھی بچے ہوں گے۔تمہاری بھی اولاد ہو گی اور وہ بھی تم سے اسی