زرّیں ہدایات (جلد چہارم برائے طلباء۔1932ء تا 1959ء)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 61 of 348

زرّیں ہدایات (جلد چہارم برائے طلباء۔1932ء تا 1959ء) — Page 61

زریں ہدایات (برائے طلباء ) 61 جلد چهارم ہیں کہ میں ہرگز نہیں سمجھ سکتا کہ اس دنیا کو خدا نے بنایا ہے۔اور اگر خدا نے ہی دنیا کو مشکلات میں ڈالا ہے تو پھر وہ ہر گز رحم کرنے والا نہیں۔میں نے کہا آخر تمہیں کیا ہوا اور کیوں اس قسم کے خیالات تمہارے دل میں پیدا ہوئے؟ وہ کہنے لگا دنیا میں کوئی خوشی کا سامان نہیں۔ہر طرف دکھ ہی دکھ اور تکلیف ہی تکلیف ہے۔میں نے کہا آپ برا تو نہ منائیں گے اگر میں اس کا جواب دوں۔وہ کہنے لگا برا کیوں منانے لگا ہوں۔میں تو چاہتا ہوں کہ میرے اس سوال کا کوئی شخص جواب دے۔میں نے کہا اس کا جواب بالکل آسان ہے۔کہنے لگا کیا ؟ میں نے کہا آپ بازار میں چلے جائیں وہاں آپ کو رسی کے کئی ٹکڑے مل جائیں گے۔آپ ایک رسی کا ٹکڑا لے لیں اور اس سے پھانسی لے کر مر جائیں۔وہ کہنے لگا میں نہیں سمجھتا تھا آپ اتنی سختی سے مجھے جواب دیں گے۔میں نے کہا میں نے آپ سے کوئی سختی نہیں کی۔میں نے تو آپ کے قید خانہ کے دروازہ کو کھولنے کا طریق بتایا ہے۔جب یہ دنیا مصیبت ہی مصیبت ہے اور اس کا آپ کے دل پر اتنا گہرا اثر ہے کہ آپ سمجھتے ہیں یا تو اس دنیا کو کسی خدا نے نہیں بنایا اور اگر واقعہ میں خدا نے بنایا ہے تو وہ ظالم ہے تو جو اس مصیبت سے نکلنے کا آسان ترین راستہ ہے وہ میں نے آپ کو بتا دیا ہے۔اس پر کچھ پیسے بھی خرچ نہیں ہوں گے۔رسی کے کئی ٹکڑے آپ کو آسانی سے مل سکتے ہیں آپ پھانسی لیں اور مر جائیں گھبراتے کیوں ہیں۔وہ کہنے لگا یہ تو غلط طریق ہے۔اب میں دنیا میں آچکا ہوں اور خود بخود اس سے نہیں نکل سکتا۔میں نے کہا دکھوں کی دنیا میں جو شخص آیا کرتا ہے وہ اس سے نکلنے کی کوشش کیا کرتا ہے۔کیا آپ نے کبھی سنا کہ قید خانہ میں جا کر کوئی شخص کہے کہ اب تو میں قید خانہ میں آ گیا ہوں اب خواہ مجھے کوئی نکلنے کا کیسا ہی اعلیٰ طریق بتائے میں اس سے فائدہ نہیں اٹھاؤں گا ؟ جب نہیں تو میں نے ایک آسان طریق آپ کو بتا دیا ہے جو دراصل یہ سمجھانے کے لئے ہے کہ آپ نے جو نتیجہ نکالا ہے وہ غلط ہے۔پھر میں نے کہا یہ تو الگ بات رہی کہ تم اس مصیبت سے نکلنے کے لئے کیا کرو۔سوال یہ ہے کہ جو لوگ خود کشی کر لیتے ہیں تم انہیں پاگل کہتے ہو یا نہیں؟ یہ ڈاکٹروں