زرّیں ہدایات (جلد چہارم برائے طلباء۔1932ء تا 1959ء)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 58 of 348

زرّیں ہدایات (جلد چہارم برائے طلباء۔1932ء تا 1959ء) — Page 58

زریں ہدایات (برائے طلباء ) 58 جلد چهارم معلوم نہیں ہوتا کہ پانی کیا چیز ہے۔یا تمہاری مثال اپنے ماں باپ کے مقابلہ میں یا اپنے بزرگوں کے مقابلہ میں اس بچہ کی سی ہے جو ایک پہاڑ کے پیچھے سو رہا ہوتا ہے اور فوجوں کے زبر دست تو پخانے اس پر گولہ باری کر رہے ہوتے ہیں۔وہ مضبوط چٹانیں جس کے بھیل 1 بعض دفعہ سینکڑوں فٹ کے ہوتے ہیں اس طرح ہوا میں اڑ رہے ہوتے ہیں جس طرح دھنکی ہوئی روئی ہوا میں اڑتی ہے۔اس کے دائیں اور اس کے بائیں گولے آتے اور نکل جاتے ہیں مگر وہ پڑا ہوا سو رہا ہوتا ہے۔وہ نہیں جانتا ضر ر کیا چیز ہے۔وہ نہیں جانتا بدلہ کیا چیز ہے۔وہ اس دنیا میں ہوتا ہے مگر اس کی دنیا با وجود قریب ہونے کے اور قسم کی دنیا ہوتی ہے۔تم بھی اپنی اس عمر میں ان مشکلات اور ان مصائب اور ان آفات اور ان تکالیف کو نہیں سمجھ سکتے جو مصائب اور تکالیف جوانی اور ادھیڑ عمر میں بڑے لوگوں کو برداشت کرنی پڑتی ہیں۔تم صرف ایک ہی بات جانتے ہو اور وہ یہ کہ تم منہ بسورو، اپنی آنکھوں میں پانی کے قطرے لے آؤ اور کہوا با! فلاں چیز لے دو، اماں فلاں چیز لے دو۔اور اس کے بعد تم سمجھ لیتے ہو کہ دنیا کی ساری چیزیں تمہیں میسر آ گئیں۔پس تمہاری دنیا امنگوں کی دنیا ہے۔تمہاری دنیا امیدوں کی دنیا ہے۔لیکن تمہارے ماں باپ کی دنیا ٹوٹی ہوئی امیدوں اور ضائع شدہ امنگوں کی دنیا ہے۔تمہاری مثال نپولین کی اُس حالت سے ملتی ہے جب وہ ایک فاتح اور جرار لشکر لے کر اپنے دشمن کے مقابلہ کے لئے نکلا۔جب وہ سمجھتا تھا کہ ساری دنیا اس کے قدموں کے نیچے ہے اور اس کے ایک ہی حملہ سے وہ بری طرح شکست کھا جائے گی۔تم بھی انہی امنگوں کی دنیا میں سرشار ہو اور کہتے ہو کہ جو پہلوں نے نہیں کیا وہ ہم کر کے دکھائیں گے۔مگر تمہارے ماں باپ کی دنیا نپولین کی اُس وقت کی دنیا ہے جب وہ سینٹ ہیلینا (St۔Helena) میں قید تھا۔جب وہ سمجھتا تھا کہ میرے نالے ہوا میں اڑ گئے۔میری فریادیں بے کار گئیں۔میری امید میں ضائع ہو گئیں اور میرے ولولے سب جاتے رہے۔جب تمہارے ماں باپ بچے تھے وہ بھی ایسی ہی خواہیں دیکھتے تھے جیسی تم دیکھتے ہو۔مگر ان کی خوابوں کی تعبیر ہوا میں اڑ گئی اسی طرح تم جو **