زرّیں ہدایات (جلد چہارم برائے طلباء۔1932ء تا 1959ء) — Page 53
زریں ہدایات (برائے طلباء ) 53 جلد چهارم رہنے چاہئیں کسی اور کو نہیں سکھانے چاہئیں۔اس کے دو بہت بڑے نقصان ہیں۔ایک انفرادی اور دوسرا قومی۔قومی نقصان تو یہ ہے کہ اگر بیٹا باپ جب لائق نہ ہو تو اس کا نتیجہ یہ ہو گا کہ فن گر جائے گا اور اس طرح قوم کو نقصان پہنچے گا۔دوسرا نقصان یہ ہے کہ باپ سے بیٹے کو اور بیٹے سے پوتے کو جب وہ کام ورثہ میں ملے گا تو ان کے نام کے ساتھ ایک اور چیز جسے پنجابی میں ”آل 3 کہتے ہیں لگ جائے گی اور وہ اس کی قومیت بن جائے گی۔حالانکہ اگر آزادانہ پیشہ اختیار کرنے کا طریق رائج ہو تو بالکل ممکن تھا کہ ایک درزی کا کام کرنے والے کا بیٹا اچھا لوہار یا اچھا نجار یا اعلیٰ معمار بن سکتا۔پس اس طریق کا انفرادی طور پر بھی نقصان ہوا اور قومی طور پر بھی۔یورپ میں لوگوں نے اپنے آپ کو ان نقصانات سے بچالیا ہے۔نہ ان کے نام کے ساتھ کوئی آل“ لگی اور نہ ان کے پیشے ہی محدود رہے۔کیونکہ انہوں نے ایک ہی کام پر جمے رہنا پسند نہیں کیا بلکہ کام تبدیل کرتے گئے۔اور انسانی فطرت کا یہ تقاضا ہے کہ وہ تبدیلی چاہتی ہے۔مرد کم تبدیلی کا خواہاں ہوتا ہے مگر عورت زیادہ تبدیلی چاہتی ہے۔گھروں میں دیکھ لو جب کبھی عورتیں صفائی کرتی ہیں تو چیزوں کو ادھر سے ادھر رکھ کر نقشہ بدل دیتی ہیں اور بالکل بلاوجہ ایسا کرتی ہیں۔پہلے اگر چار پائی مشرقی دیوار کے ساتھ ہوگی تو پھر مغربی دیوار کے ساتھ کر دی جائے گی۔کبھی جنوبی دیوار کے ساتھ لگا دی جائے گی اور کبھی پھر مشرقی دیوار کے ساتھ رکھ دی جائے گی۔یہ صرف نظارے کی تبدیلی ہوتی ہے۔بہر حال تبدیلی ترقی کے لئے ضروری چیز ہے گوتبدیلی میں تنزل کا پہلو بھی ہوتا ہے۔مگر اس میں ترقی بھی ہوتی ہے۔اللہ تعالیٰ نے انسان میں یہ مادہ رکھا ہے کہ وہ ایک حالت میں رہنا پسند نہیں کرتا بلکہ تغیر چاہتا ہے اور کام کی تبدیلی کے ساتھ بھی بہت سے خاندان بڑھتے اور گھٹتے ہیں۔غرض ان تمام باتوں کو مد نظر رکھتے ہوئے میں نے اس صنعتی سکول کی ابتدا کی ہے۔میں نے بتایا ہے کہ ہندوستان کے تنزل اور اس کی تباہی کی ایک وجہ ان پیشوں کا ہمارے ہاتھوں سے نکل جانا ہے۔اور یورپ کی ترقی کی وجہ ان پیشوں کا ان کے ہاتھ میں چلا جانا ہے۔پھر میرے مد نظر یہ بات بھی ہے کہ اس طرح بے کاری کو دور کرنے کی بھی کوشش کی جائے مگر میں