زرّیں ہدایات (جلد چہارم برائے طلباء۔1932ء تا 1959ء) — Page 52
زریں ہدایات (برائے طلباء ) 52 جلد چهارم کی بنی ہوئی استعمال کی جاتی ہیں۔اور بعض کو چوں کی قیمت کئی کئی سو تک ہوتی ہے۔اسی طرح عمارتی کاموں میں بھی بعض ٹکڑے بنے بنائے ولایت سے آتے ہیں مگر یہ پیشہ پھر بھی ایک حد تک محفوظ رہا ہے۔باقی رہا چمڑے کا کام۔اس کا بیشتر حصہ ولایت چلا گیا تھا مگر اب واپس لوٹ رہا ہے۔پہلے تمام چیزیں چمڑے کی ولایت سے بن کر آتی تھیں مگر اب ہندوستان کے بعض شہروں مثلاً کان پور وغیرہ میں چمڑے کی بہت اشیاء تیار کی جاتی ہیں تاہم چمڑے کی بہت سی چیزیں ایسی ہیں جو یورپ سے تیار ہو کر ہندوستان آتی ہیں۔اور یورپ والے ان کے ذریعہ روپیہ کما رہے ہیں۔یورپ میں جوتیاں بنانے والے ہمارے ہاں کے موچیوں کی طرح نہیں سمجھے جاتے بلکہ ان کی وہی قدر و منزلت ہوتی ہے جو وہاں بڑے بڑے لارڈوں کی ہوتی ہے بلکہ وہاں تو ایسے لوہار، نجار یا بوٹ میکر ہیں جو لارڈ ہیں اور ان کی بہت عزت کی جاتی ہے۔ان میں سے جب کوئی ہندوستان آتا ہے تو وائسرائے کا مہمان ہوتا ہے اور راجے نواب بھی اس کے آگے پیچھے پھرتے ہیں۔اس کی وجہ یہ ہے کہ انہوں نے اپنی آمدنیوں کو محدود نہیں رکھا بلکہ انہیں غیر محدود بنالیا ہے۔اور ان کے پیشے اپنی غیر محدود آمدنیوں اور وسیع پیمانے پر ہونے کی وجہ سے معزز تصور ہورہے ہیں مگر ہندوستان میں وہی پیشے قلیل آمدنیوں کی وجہ سے ذلیل سمجھے جاتے ہیں۔یہاں ایک اور عجیب رواج بھی ہے۔اور دراصل ہندوستانیوں کو اسی کی سزامل رہی ہے۔اور وہ یہ ہے کہ ایک پیشہ ور انسان اپنے پیشہ کو ذاتی جائیداد تصور کرتا ہے اور چاہتا ہے کہ صرف اپنے بیٹے کو وہ پیشہ سکھا دے کسی دوسرے کو وہ سکھانا پسند نہیں کرتا۔اسلام نے اسے قطعاً پسند نہیں کیا کہ کوئی شخص کسی کام کو اپنی ذاتی جائیداد بنا کر بیٹھ جائے۔یورپ میں ہم دیکھتے ہیں کہ کوئی خاندان سارے کا سارا بوٹ بنانے والا نہیں ہوگا۔اگر باپ بوٹ میکر ہوگا تو بیٹا کیمیا کے علم کا ماہر ہوگا۔پوتے کپڑا بنانے کا کام کرتے ہوں گے اور پڑپوتے کسی فرم میں حصہ دار ہوں گے۔غرض ایک ہی کام نہیں ہوگا جس میں وہ سارے کے سارے لگے ہوئے ہوں گے۔مگر ہمارے ملک نے سمجھ رکھا ہے کہ پیشے ذاتی جائیداد ہوتے ہیں اور وہ اپنے خاندان تک ہی محدود