زرّیں ہدایات (جلد چہارم برائے طلباء۔1932ء تا 1959ء) — Page 54
زریں ہدایات (برائے طلباء ) 54 جلد چهارم فوری طور پر اس کام کو وسعت نہیں دے سکتا۔کیونکہ ہمارے پاس سرمایہ کم ہے گو میری خواہش یہی ہے کہ ہر بے کار کو کام پر لگایا جائے مگر عقل چاہتی ہے کہ کام کو اس طریق سے نہ چلایا جائے کہ چند دن جاری رہ سکے اور پھر ختم ہو جائے بلکہ ایسے طریق سے قدم اٹھایا جائے کہ جس سے ہمارے کام کو دوام نصیب ہو۔فی الحال میں نے یہ سکیم بنائی ہے کہ ایک استاد کے ساتھ تین شاگرد ہوں اس طرح کام چلا نا سہل ہوگا۔ہر تیسرے ماہ طالبعلموں کا انتخاب ہوا کرے گا اور مزید تین تین لڑکوں کو لے کر کام پر لگا دیا جائے گا۔اس طرح سال میں ہر ایک استاد کے پاس 12 طالب علم ہو جائیں گے۔اور پھر سال بھر کے سیکھے ہوئے لڑکے نئے داخل ہونے والے لڑکوں کو کام سکھا بھی سکیں گے۔اس سلسلہ میں جو مشکلات پیدا ہوں گی وہ تو بعد میں ہی دیکھنے میں آئیں گی مگر اصولی طور پر یہ بات مدنظر رکھی گئی ہے کہ اس طرح آہستہ آہستہ کام کو بڑھایا جائے۔میری تجویز یہ بھی ہے کہ ہماری جماعت کے لوگ بھی اس کام میں حصہ لیں اور وہ اس طرح کہ اس سرمایہ کے جو اس پر لگایا جائے حصص خریدیں۔چنانچہ اس میں تجارتی طور پر حصہ لینے کے لئے میں نے جماعت کے لئے گنجائش رکھی ہے۔اس میں سے پچاس فیصدی تک سرمایہ کے حصے خریدے جاسکتے ہیں۔میں نے اس سکول کے متعلق اصول انتخاب میں یہ بات مد نظر رکھی ہے کہ یتامیٰ کو مقدم رکھا جائے اور ان کی نسبت دوسرے لڑکوں کے انتخاب کی شرائط کڑی ہوں۔مثلاً پہلی شرط ان کے لئے یہ رکھی گئی ہے کہ وہ کم سے کم پرائمری پاس ہوں مگر قیموں کے لئے پرائمری پاس ہونے کی شرط نہیں گو انہیں بھی اگر وہ ان پڑھ ہوں تعلیم دی جائے گی۔پھر یہ بھی شرط ہے کہ ان کو بورڈنگ میں رکھا جائے گا اور پانچ سال انہیں یہاں رہنا ہوگا۔تین سال تک ان پر ہم خرچ کریں گے۔باقی دو سال میں اس آمد پر جو ان کی تیار کی ہوئی اشیاء سے حاصل ہوگا ان کا خرچ چلے گا۔پہلے تین سال سنگ استادوں کی تنخواہیں، بورڈنگ کا خرچ اور کپڑے وغیرہ کا خرچ تحریک جدید کے ذمے ہو گا۔اس کے علاوہ ہم نے دو سال اس لئے زائد رکھے ہیں تا کہ وہ