زرّیں ہدایات (جلد چہارم برائے طلباء۔1932ء تا 1959ء) — Page 51
زریں ہدایات (برائے طلباء ) 51 جلد چهارم میں ایسے طبیب بھی ملیں گے جن کی ماہوار آمدنی پانچ چھ روپیہ سے زیادہ نہیں ہوگی۔لیکن ایسے طبیب بھی ملیں گے جن کی آمدنی پانچ چھ ہزار روپیہ ماہوار ہوگی۔اگر سارے طبیب پانچ یا چھ روپیہ آمدنی کے ہوں تو طب کی بھی بہت کم قدر ہو جائے۔چونکہ لوہارے اور تر کھانے کی آمدنی بھی کم اور محدود رہ گئی ہے اس لئے لوگوں نے ان پیشوں کو ذلیل سمجھنا شروع کر دیا ہے۔تجارت میں چونکہ آمدنی زیادہ ہوتی ہے اس لئے اس کی قدر زیادہ کی جاتی ہے۔لیکن اگر ہم بھی ان تمام پیشوں کو اس طریق پر چلاتے جس طریق پر انہیں یورپ میں چلایا جاتا ہے تو یہاں بھی ان کی ویسی ہی قدر کی جاتی جیسی کہ وہاں کی جاتی ہے۔اب دیکھ لو تمام کپڑا یورپ سے آتا ہے یا تو لنکا شائر میں بنتا ہے یا تجیم میں۔بیان کیا جاتا ہے کہ ہر سال ساٹھ کروڑ روپے کا کپڑا باہر سے ہندوستان میں آتا ہے۔ظاہر ہے کہ یہ سب کام جلا ہے کرتے ہیں۔چاہے کسی قسم کا کپڑا بنا جائے۔گرم کپڑا ہو یا چھینٹ ہو یا کھدر۔یہ کام جلا ہے کا کام ہی کہلائے گا۔صرف کھدر بننے کا کام کسی کو لاہا نہیں بنا تا بلکہ کپڑ اپنے کا کام جلا ہا بنا تا ہے۔پھر لوہارے کے تمام کاموں کی اشیاء یورپ سے آتی ہیں۔مثلا ریل گاڑی کا سامان، کپڑے سینے کی مشینیں ، آٹا پینے کی مشینیں ، روٹی اور بنولے کی مشینیں ، موٹر بائیکس کل، مختلف پرزے، سب یورپ سے آ رہے ہیں۔اس کی وجہ یہ ہے کہ آہستہ آہستہ یورپ والوں نے سرمایہ داری کے ذریعہ سارا کام اپنی طرف کھینچ لیا ہے۔اور اب تو یہ حالت ہے کہ جب ہمارا کپڑا پھٹ جائے اور اسے سینے کی ضرورت ہو تو ہمیں سوئی کے لئے بھی یورپ کا دست نگر ہونا پڑتا ہے۔بچپن میں مجھے یاد ہے کہ ہندوستان کی بنی ہوئی سوئیاں جو کچی سوئیاں کہلاتی تھیں استعمال کی جاتی تھیں۔مگر اب وہ کہیں نظر نہیں آتیں۔بات یہ ہے کہ جن چیزوں کے متعلق یورپ والوں نے دیکھا کہ ہندوستان میں استعمال ہوتی ہیں انہوں نے وہ چیزیں مشین کے ذریعہ بنانی شروع کر دیں۔اب تو مشینوں نے کھدر بھی بنا دیا ہے اور وہ کھدر کریپ کہلاتا ہے۔یورپ والوں نے کہا اگر ہندوستانی کھدر پہننے کے لئے ہی تیار ہیں تو ہم مشینوں سے کھدرہی تیار کر دیں گے۔پھر نجاری کا کام ہے اس میں بھی اعلیٰ فن کے کام ولایت سے ہی آتے ہیں۔بڑے بڑے گھروں میں دیکھ لو۔کرسیاں اور گوچیں 2 یور