زرّیں ہدایات (جلد چہارم برائے طلباء۔1932ء تا 1959ء) — Page 46
زریں ہدایات (برائے طلباء) 46 جلد چهارم پیشے تو لاکھوں ہیں لیکن وہ چونکہ ایک دوسرے کے ساتھ ساتھ چلتے ہیں اس لئے بڑے بڑے پیشے چند ہی ہیں۔مثلاً ایک پیشہ وہ ہے جس سے انسان کی زندگی کا بڑا تعلق ہے اور وہ زراعت ہے۔زراعت کے ذریعہ غلہ وغیرہ اور ایسی چیزیں پیدا کی جاتی ہیں جن پر انسان کی زندگی کا دار و مدار ہے۔اس کے بعد دوسری چیز جسم کو ڈھانکنے کا سوال ہے۔اس کے لئے کپڑا بننے والے کی ضرورت ہے جس کو ہم جلارہا کہتے ہیں۔پھر پہنے کے لئے مختلف چیزوں کی ضرورت ہوتی ہے۔مثلا کپڑے کے علاوہ جرا ہیں ،سویٹر وغیرہ یہ سب چیزیں اسی پیشہ کے اندر آ جاتی ہیں اور وہ سب اشیاء جن کا کپڑے کے ساتھ تعلق ہو گا سب کی سب اس پیشہ سے متعلق ہوں گی۔تیسرا پیشہ معماری ہے کیونکہ عناصر میں جو طوفان پیدا ہوتے ہیں ان کے اثرات سے بچنے کے لئے ضروری ہے کہ انسان مکان بنائے یا ایک دوسرے کے ضرر سے بچنے کے لئے مثلاً چور یا حملہ آور سے محفوظ رہنے کے لئے مکان ضروری ہے پس تیسری چیز معماری ہے۔چوتھا پیشہ جو اصولی حیثیت رکھتا ہے وہ لوہاری کا کام ہے۔بہت ساری چیزیں ایسی ہوتی ہیں جن کے ایک جگہ سے دوسری جگہ منتقل کرنے کی انسان کو ضرورت پیش آتی ہے یا خود انسان کو ایک جگہ سے دوسری جگہ جانے کی حاجت ہوتی ہے اس کے لئے مثلاً گاڑیاں ، موٹریں، سائیکل یا ریل گاڑیاں کام میں لائی جاتی ہیں۔ایک جگہ سے دوسری جگہ منتقل ہونے اور انسانی کاموں میں سہولت پیدا کرنے کے لئے یہ دو پیشے ہیں۔ایک لوہار کا کام، دوسرا ترکھان کا کام۔یہ زراعت میں مفید ہونے کے علاوہ باقی بہت سے کاموں کے لئے بھی نہایت ضروری ہیں اور انسان کے عام مشاغل کو بھی سہل بناتے ہیں۔پھر علم الا بدان میں وہ چیز بھی آجاتی ہے جس کو لوگوں نے مقدم رکھا ہے یعنی علم کیمیا اور علم طب۔علم طب بھی انسانی علاج کو سہل کر دینے والی چیز ہے۔تو گویا زراعت، معماری، لوہاری، نجاری، علم کیمیا علم طب۔اور علم طب دراصل ایک لحاظ سے علم کیمیا ہی کی ایک شاخ ہے۔اور کپڑا ئینے کا کام۔یہ سات پیشے ہوئے۔باقی تمام پیشے انہی کے اندر آ جاتے ہیں۔مثلاً دوسرے کام پینٹنگ وغیرہ معماری کی بھی ایک شاخ ہے اور علم کیمیا کی بھی چمڑے کا کام اس