زرّیں ہدایات (جلد چہارم برائے طلباء۔1932ء تا 1959ء)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 47 of 348

زرّیں ہدایات (جلد چہارم برائے طلباء۔1932ء تا 1959ء) — Page 47

زریں ہدایات (برائے طلباء ) 47 جلد چهارم کے علاوہ ہے۔تو اسے ملا کر گویا آٹھ پیشے ہوئے۔ان آٹھ پیشوں کو جو قوم جان لیتی ہے اپنی ضروریات کے لئے دوسروں کی محتاج نہیں رہتی۔بشرطیکہ وہ ان پیشوں کو اس رنگ میں جانتی ہو جیسا کہ جاننے کا حق ہے۔یہ نہیں کہ ایک کام سیکھ کر یہ سمجھ لیا جائے کہ بس اب کام ختم ہو گیا اور اب اس میں ترقی کرنے کی ضرورت نہیں۔ورنری کا علم یعنی حیوانوں اور جانوروں وغیرہ کا پالنا اوران کا علاج بھی علم الا بدان ہی سے تعلق رکھتا ہے۔یہ علم اور نرسنگ وغیرہ کا علم طب کے نیچے آجائیں گے۔پس جتنے بھی علوم ہیں وہ سب انہی آٹھ پیشوں کے اندر محصور ہو جاتے ہیں۔کیونکہ ان میں سے بعض یا تو زراعت سے تعلق رکھتے ہوں گے یا چمڑے کے کام سے تعلق رکھتے ہوں گے یا معماری کے کام سے تعلق رکھتے ہوں گے یا نجاری کے کام سے تعلق رکھتے ہوں گے۔ان چیزوں سے باہر اور شاید ہی کوئی چیز ہو۔اگر یہ چیزیں کوئی قوم مضبوطی سے حاصل کرے تو وہ دوسری قوموں سے آزاد ہو جاتی ہے۔ان کا مد پیشہ بے شک تجارت ہے مگر وہ تابع پیشہ ہے حقیقی پیشہ نہیں اور اپنی ذات میں وہ کوئی الگ نہیں۔کیونکہ وہ انسان کی بنائی ہوئی چیزوں کو ہی لوگوں تک پہنچاتا ہے لیکن دولت کے لحاظ سے وہ پیشہ ان سے کم نہیں ان سے زیادہ ہی اہمیت رکھتا ہے۔اور وہ اس لئے کہ مالی لحاظ سے اس کو ان پیشوں پر فوقیت حاصل ہے۔سوائے اس کے کہ پیشہ ور اپنے ساتھ تجارت کو بھی شامل کر لیں۔جب تجارت ساتھ شامل ہو جائے تو کام بہت وسیع ہو جاتا ہے۔میں نے تحریک جدید کے اس پہلو پر غور کرتے ہوئے یہ معلوم کیا ہے کہ ہماری جماعت میں کن پیشیوں کی کمی ہے اور کون کون سے پیشے ایسے ہیں جنہیں انفرادی یا جماعتی طور پر ہمیں لوگوں کو سکھانے کی ضرورت ہے۔زراعت کے متعلق میں نے دیکھا ہے کہ ہماری جماعت میں کافی لوگ ایسے ہیں جو زراعت کا کام کرتے ہیں۔تجارت کے متعلق میں نے غور کیا اور میں نے دیکھا کہ اگر چہ اس کی ہماری جماعت میں کمی ہے لیکن چونکہ ہم ابھی اس کام میں فوری ہاتھ ڈالنے کے قابل نہیں تھے اس لئے میں نے چند مبلغوں کو تیار کیا کہ وہ بعض ایسی نئی تجارتی چیزیں دریافت کریں جنہیں ہم ہاتھ میں